gototopgototop
We have 12 guests online

پاکستان

تکفیری گروہ ، اسلامی انقلاب کے خلاف ایک اور حربہ ۔ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
Written by اردو ریڈیو   

١۹۷۹میں اسلامی انقلاب کی کامیابی ، دنیا میں چند صدیوں کے دوران رونما ہونے والے اہم واقعات میں سے ایک ہے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے زمانے تک دنیامیں رونما ہونے والی تمام سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا  دو مکاتب فکر  کمیونزم  اور لیبر ازم کے قالب میں جائزہ لیا جاسکتا ہے لیکن ایران کے انقلاب نے حقیقی اسلامی ماہیت کے ساتھ یہ ثابت کردیا کہ یہ عظیم الہی دین ، تاریخ کے ایک عظیم ترین انقلاب کے ظہور کی توانائي اور صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ توانائی اس امر کا باعث بنی کہ بہت سی آزادی کی تحریکوں خاص طور پر ایشیاء اور افریقہ میں رونما ہونے والی تحریکوں نے اپنی توجہ ایران اور اسلامی آئیڈیولوجی  پر مرکوز کی ۔ اور بڑی مسلم آبادی والےملکوں میں اس پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی اہمیت اس حدتک ہے کہ امریکی محقق "گراہم فولر"  ایران کو  "قبلۂ عالم"  اور پرفیسرروح اللہ زمانی اسے  " حساس دوراہے " سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جان اسپوزیٹو (john Esposito ) " انقلاب اسلامی اور اس کا عالمی انعکاس " نامی کتاب میں لکھتے ہيں " ایران نے پہلا کامیاب سیاسی انقلاب دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ایسا انقلاب جو اسلام کے نام  اور اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ ، شیعہ عقائد اور نظریات کی بنیادپر ، اسلام پسند قیادت پر استوار ہے اور دنیا کے تمام مسلمانوں نے جس کے سبب اپنے حقیقی مقام و منزلت کو پالیا اور بڑی طاقتوں کے تسلط سے رہائی حاصل کی ۔اور اس انقلاب نے مختلف پہلوؤں سے عالم اسلام پر اثر مرتب کیا ہے ۔

ایسے عظیم انقلاب کے وسیع علاقائی اور غیر علاقائی اثرات کے سبب اس کے دشمن بھی وسیع پیمانے پر ہیں ۔ عالمی طاقتوں اور اس کے اتحادی ممالک نے جواسلامی انقلاب کو اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے لئے سنجیدہ خطرہ سمجھ رہے تھے اسی ابتدائے انقلاب سے ہی اسلامی انقلاب کے خلاف دشمنانہ موقف اختیار کرلیا ۔ ان ملکوں نے ایران کے عوامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی اس نو خیز انقلاب کو اکھاڑ پھینکنے میں کوئی دریغ نہیں کیا ۔ اور اسی سلسلے میں متعدد فوجی کودتا ، انقلاب کے ممتاز رہنماؤں کا قتل ، ایران کے مختلف علاقوں میں علیحدگي پسند گروہوں کی حمایت ، اقتصادی بائیکاٹ اور آخرکار صدام حکومت کی حمایت کے ساتھ ہی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کا مسلط کرنا وہ جملہ اقدامات ہیں جنہیں مغربی حکومتوں نے امریکہ کی سرکردگي میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے انجام دیئے ۔لیکن اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے تسلط پسند طاقتوں کا کوئي حربہ کارگر نہیں ہوا بلکہ  اس کے برعکس اسلامی انقلاب کے خلاف دشمنانہ اقدامات سے عوام میں مزید اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوئی اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کی بنیادیں پائیداراور مستحکم ہوئیں ۔ اسلامی انقلاب کے دشمنوں نے ان اقدامات میں ناکامی کے بعد کوشش کی کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے مخالف اور انتہا پسند دھڑوں کی حمایت کے ذریعے اسلام اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے چہرے کو علاقے اور اقوام عالم کی نظر میں بگاڑ کر پیش کریں۔

اسلامی جمہوریۂ ایران اور اسلامی بیداری سے مقابلے کےلئے، امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے تکفیری گروہوں کی حمایت شروع کی ہے ۔ اس درمیان سعودی عرب ، منحرف اور متعصب فرقۂ وہابیت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ان گروہوں کی مالی حمایت کررہا ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں تکفیری گروہ لشکر جھنگوی کی آشکارا حمایت ، روس کے شہر داغستان ميں تکفیری گروہوں کی حمایت ، عراق میں داعش تکفیری گروہ کی حمایت ، شام میں النصرہ تکفیریوں کی حمایت اور لبنان میں عبداللہ عزام تکفیری دھڑے کی حمایت ، ان تکفیری گروہوں کے لئے انجام پارہی ہیں ۔ مغرب کی اگرچہ یہ کوشش ہے کہ خودکو تکفیری گروہوں کا مخالف ظاہر کرے لیکن مغربی حکومتوں کی کارکردگي ان کے دعووں کے برخلاف ہے ۔ یہ حکومتیں سعودی عرب کی بھرپور حمایت کرتی ہيں اور عالم اسلام میں اس کے محوری کردار کی خواہاں ہیں کیوں کہ سعودی عرب میں جو اسلام حاکم ہے ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور صہیونی حکومت کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے ۔ سعودی عرب اور اس پر حکمراں وہابی ٹولہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی مختلف صورتوں میں مالی اور اسلحہ جاتی مدد کررہا ہے ۔ تکفیریوں نے عالم اسلام میں قائم اتحاد کو نشانہ بنایا ہے ۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں کسی بھی امریکی اوراسرائیلی ہدف کو نقصان نہیں پہنچایا ہے ۔

اگر ہم غور کریں تو یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عرب ملکوں میں رونما ہونے والے انقلابات اوراسلامی بیداری کی تحریکوں میں شدت آنے کے ساتھ ہی عالم اسلام میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے ۔ اور اگر ہم ان ملکوں کا جائزہ لیں ، جہاں اسلامی بیداری کے سائے میں عوام ، ظالم اور ڈکٹیر حکومتوں کے شر سے محفوظ ہوگئے تو اس وقت انہیں تکفیریوں کا سامنا ہے ۔ اسی سلسلےمیں رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای ، تکفیری گروہ کو عالم اسلام کے لئے عظیم خطرہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں افسوس کہ بعض مسلم حکومتیں تکفیری گروہوں کی حمایت کے نتائج سے غافل ہيں اور وہ نہيں سمجھتیں کہ یہ آگ ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی ۔ آپ نے اسلامی ملکوں میں استکباری حکومتوں کی جانب سے تکفیری دہشتگردوں کیلئے جاری ہمہ جہتی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان تکفیری گروہوں کے مقابلے میں، جو عالم اسلام کیلئے ایک بڑا خطرہ ہیں، مکمل ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے بیداری و آگاہی کو مسلمانوں کی سعادت کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی ملکوں کے بے نظیر وسیع‏ قدرتی ذرائع، ممتاز جغرافیائی پوزیشن، گرانقدر تاریخی میراث اور اقتصادی و معاشی ذرائع، اتحاد و وحدت اور یکجہتی کے زیر سایہ مسلمانوں کو عزّت و احترام اور ارتقاء کی منازل پر پہنچا سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مستکبروں کی کوشش ہےکہ اسلامی بیداری کو متاثر کرتے ہوئے مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے  دست بگریباں کردیں اور اسلام کے چہرے کو رائے عامہ میں خراب بگاڑ کر پیش کریں ۔

تکفیر کا بنیادی عنصر اور نچوڑکسی حقیقی اور یقینی فکر پر مبنی نہیں ہے ۔ تکفیری دہشتگرد جماعتیں اسلامی ملکوں کو بدنام کرنے اور دہشتگردانہ حملے کرکے اسلام کی درخشندہ صورت کو مسخ کرکے پیش کرنے میں کوشاں ہیں ۔ تکفیری دھڑے کا اسلام کی انسانی اور پرامن اعلی تعلیمات سے کوئی ربط نہيں ہے ۔ اسی بنیاد پر تکفیری دھڑا اسلامی انقلاب  کی اس فکر کے بالمقابل ہے جو منصفانہ اور اسلام کی آزادی بخش تعلیمات پر استوار ہے ۔ایسا اسلام ، جو آزادی و استقلال اور انصاف پسندی کا دین ہے اور نہ صرف مسلمانوں کےلئے بلکہ عالم انسانیت کے لئے ہے ۔ وہ چیز جو وہابیوں کے عقائد وافکار میں نظر آتی ہے ، ديگر مسلمانوں کو کافر قرار دے کر قتل کرنا ہے اور وہ اس کام کے لئے بچوں اور عورتوں کسی بھی پر رحم نہیں کرتے ۔ اصولی طور پر تشدد، انتہاپسند وہابیوں کے رفتار و کردار کا ایک حصہ ہے ۔ اب جبکہ ایران کا اسلامی انقلاب ، امن و دوستی کا علمبردار ہے اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام اقوام عالم کے ساتھ ہے ، ایران کے رہبر انقلاب اسلامی نے  نہ صرف ديگر مسلمانوں کے ساتھ اختلاف کو غلط قرار دیا ہے  بلکہ انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے اب تک مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قیام کے لئےوسیع کوششیں بھی انجام دی ہیں ۔ دوسری طرف ایران کا اسلامی انقلاب امت مسلمہ کے دشمنوں کے مقابلے میں بہت سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یہ موقف خاص طور پر صہیونی حکومت اور فلسطینی عوام کی حمایت میں مکمل طور پر واضح اور آشکارا ہے ۔  اسلامی جمہوریۂ ایران کی جانب سے حزب اللہ لبنان کی حمایت اور مجموعی طور پر اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محاذ اسی بنیاد پر قائم ہے ۔ تکفیری ٹولے کو نہ صرف ایران کی اسلامی  حکومت سے دشمنی ہے بلکہ مغرب اور اس کی ہم فکر عرب حکومتوں کی سیاست  کی بنیاد پر وہ مزاحمتی محاذ کو اپنے لئے بہت بڑا دشمن سمجھ رہا ہے ۔ اسی بنیاد پر امریکہ اور اسرائیل تکفیریوں کی خفیہ اور آشکارہ حمایت کررہے ہيں اور ایران کے ساتھ سخت دشمنی پراتر آئے ہیں ۔ اعتقادی لحاظ سے بھی ایران کا اسلامی انقلاب ، تکفیری وہابیوں سے یکسر مختلف نقطۂ نگاہ کا حامل ہے ابھی اس فرقے کو وجود میں آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے اور اس کے انحرافی اورخرافاتی نظریات کی ، اسلامی مفکرین خواہ شیعہ ہوں یا سنی سب نے ٹھوس دلائل کے ساتھ  تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے لیکن اسلامی انقلاب کی بنیاد ،حقیقی اسلامی اقدار اور مآخذ پر قائم ہے اور اسی بناء پر یہ انقلاب ، اسلام کے اعلی اقدار کی بنیاد پر مقتدر نظام کو وجود میں لایا ۔

اس وقت مغربی حکومتیں تکفیری جارحین کو اہل سنت کا نمائندہ ظاہر کررہی ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ ان کو ایران کے اسلامی انقلاب کے مقابلے میں لا کھڑا کریں تاکہ اس انقلاب  کو مشکلات سے دوچار کردیں ، اسرائيل کے مقابلے ميں مزاحمت کے محور کو کمزور کردیں اور آخر کار مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں ۔ اسلامی انقلاب کی فکر ، حقیقی اسلام کی بنیادوں اور قرآن و اہل بیت پیغمبر علیھم السلام کی تعلیمات پر قائم ہے جبکہ وہابیت کی اساس اور بنیاد کھوکھلی ہے بلکہ اس کی کوئی بنیاد ہی نہں ہے اور جس دن مغرب اور عرب ممالک کی ان کے لئے حمایتیں منقطع ہوجائیں گي تو ان کا وجود ختم ہوجائے گا ۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH