gototopgototop
We have 13 guests online

پاکستان

ایران پاکستان گیس پائپ لائن: صدی کا اہم منصوبے پر عمل کیوں نہ ہوا PDF Print E-mail
User Rating: / 1
PoorBest 
Written by Administrator   

جب گذشتہ برس کے ماہ مارچ میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے کی تعمیر پر اتفاق کیا تھا تو تب یہ منصوبہ بہت زیادہ پر از توقعات لگا تھا۔ تب تک ایران نے نہ صرف اپنی جانب 900 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھا دی تھی بلکہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر بطور قرض بھی دے گا جو پاکستان کے حصے میں ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائے جانے کے اخراجات کا ایک تہائی ہوتا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایران کے ماہرین پاکستان کی سرزمین میں گیس پائپ لائن بچھائے جانے کا کام کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔ تب فریقین نے طے کیا تھا کہ یہ کام 2014 کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ پائپ لائن پاکستان میں گیس کی مزمّن قلت کا مسئلہ حل کرنے میں مددگار ہوگی۔ لیکن ایک سال بعد پاکستان کا گیس پائپ لائن کے بارے میں موقف غیر متوقع طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ جیسا کہ کچھ عرصہ پیشتر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان فی الحال اس منصوبے پر عمل درآمد کے امکان کو پیش نظر نہیں رکھتی۔ " اگر پابندیاں ہٹ جائیں تو یہ منصوبہ تین سالوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر پر امریکہ اور یورپی اتحاد کی جانب سے ایران کے خلاف عائد باپندیوں کی وجہ سے عمل درآمد کیا جانا ممکن نہیں ہے" شاہد خاقان عباسی نے بیان دیا تھا۔ ایران نے اس موقف کو ناگواری کے ساتھ لیا ۔ وجہ یہ ہے کہ جب معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تب اسلام آباد کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔ جب کہ تب ایران کی حکومت کے خلاف پابندیاں زیادہ سخت تھیں۔

ایسا کیا ہوا ہے کہ اسلام آباد کا رخ یکسر پھر گیا ہے؟ مبصر سرگئی تومن اس سوال کا جواب دیتے ہیں:" بہت ممکن ہے کہ پاکستان کے ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے اچانک انکار کرنے کی وجہ خفیہ جغرافیائی سیاسی نوعیت کی ہو، ایران کے خلاف پابندیوں کا محض سہارا لیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی جانب توجہ مبذول کراتی ہے کہ ایران سے پاکستان نے رخ اس ڈیڑھ ارب ڈالر کے "تحفے" کے بعد پھیرا، جو اسے سعودی عرب کی جانب سے ملا ہے۔ مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا سمیت دوسرے ہمسایہ خطوں میں ایران کا مصالحت سے گریزاں حریف، سعودی عرب سفارتی ذرائع کے مطابق ایک سے زیادہ بار ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تکمیل پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکا ہے اور اس نے ہر کوشش کی کہ پاکستان اس سے جان چھڑا لے"۔

الریاض کی منظق قابل فہم ہے۔ سعودی حکومت نہیں چاہتی کہ پاکستان ایران کے توانائی کے وسائل پر تکیہ کرنے لگ جائے اور پھر پہل قدمیاں کرنے کی راہ لے۔ سعودی رقم سے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا مل گیا ہے اور تہران سے امکان چھن گیا ہے کہ وہ توانائی کے وسائل کے توسط سے پاکستان پر اثر انداز ہو سکے۔ لگتا ہے کہ " دوستی گیس پائپ لائن" ایک بار پھر خطے میں مصالحت سے گریزاں ملکوں ایران اور سعودی عرب کی خطے پر اثر انداز ہونے کی مسابقت کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH