gototopgototop
We have 23 guests online

پاکستان

قاتل ہمارے بھائی ہیں PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
Written by ارشاد حسین ناصر   

جماعت اسلامی کے موجودہ امیر منور حسن اپنے خیالات اور بیانات سے قطعاً اس جماعت کے امیر نہیں لگتے جسے مولانا مودودی نے پاکستان میں اسلامی تحریک کے طور پر متعارف کروایا تھا اور بعد ازاں جسے قاضی حسین احمد مرحوم نے ایک معتدل و اتحاد امت کی داعی عوامی جماعت بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کاوشیں کیں اور پاکستان کے انتخابی میدان میں وارد ہو کر عوام کو یہ موقعہ دیا کہ وہ جماعت اسلامی کے نظریات و افکار پر ووٹ کی صورت میں مہر تصدیق ثبت کرسکتے ہیں، امت کے مختلف مکاتیب فکر اور فرقوں میں باہمی فاصلوں کو کم کرنے کیلئے انہوں نے ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل جیسے اتحاد بھی قائم کئے جبکہ اافغانستان کے سیاستدانوں او جہادی راہنماؤں کو متحد و یکجا کرنے کیلئے بھی ان کی کاوشیں ان کے کردار کی گواہی ہیں، مگر اس کے باوجود مجھے یاد ہے کہ جب افغانستان پر قبضہ کی باہمی لڑائی اور جنگ عروج پر تھی تو انہوں نے بغیر کسی لحاظ و رعایت کے یہ بیان دیا کہ اب افغانستان میں جہاد نہیں فساد ہو رہا ہے، یقیناً یہ ان کی صاف گوئی اور فکری بالیدگی کا واضح ثبوت تھا۔

جماعت کے موجودہ امیر منور حسن صاحب نے تھوڑے عرصہ کے دوران جو شہرت پائی ہے، وہ انہیں ان کے طویل جماعتی سفر اور ذمہ داریوں میں نہیں مل سکی، میڈیا کی آذادی کا دور ہے، باتیں ریکارڈ ہو کر چل جاتی ہیں، اگر تردید بھی آ جائے یا وضاحت بھی کر دی جائے، تب بھی اصل متن، لہجہ اور واقعیت کی روشنی میں سننے، پڑھنے اور دیکھنے والا سمجھ جاتا ہے، ویسے بھی تردیدیں ہمیشہ سنگل کالم اور اخبارات کے بچے کھچے حصہ میں شائع کی جاتی ہیں، جن پر نگاہ کم ہی پڑتی ہے۔ موصوف منور حسن نے اپنے تازہ ترین فرمانیئے میں کہا ہے کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں، وزیراعظم مذاکرات جاری رکھیں اور شریعت کو نافذ کریں، اس سے قبل موصوف نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے ذریعے CIA کی خدمت کرنے والے اسامہ بن لادن کو سید الشہداء کا لقب عطا کیا تھا اور اس سے تھوڑا پہلے انہوں نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے شیر دل فوجی جوانوں کے شہداء جو قبائلی علاقوں میں ملک بچانے کی کارروائیوں میں جان سے چلے گئے، کو شہید ماننے سے انکار کیا، نہ صر ف انہیں شہید ماننے سے انکار کیا بلکہ دہشت گردوں اور ان کے سرغنوں کو شہداء کے لقب سے نوازا، جس پر افواج پاکستان نے بھی اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا، جسے جماعت اسلامی نے جمہوریت میں مداخلت قرار دیا تھا، مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں منور حسن سے کئی اینکرز نے طالبان کی دہشت گردی کا نام لیکر مذمت کروانے کی بھرپو کوششیں کیں مگر ناکام رہے۔ انہوں نے کسی کے سامنے بھی اپنے نظریات اور ذاتی موقف سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی، یعنی انہوں نے کبھی بھی طالبان کی دبے یا کھلے لفظوں میں مذمت نہیں کی۔

میرے خیال میں ان کے حالیہ بیان کے بھی دو پہلو ہیں جن پر غور کیا جانا چاہیئے، ایک ان کا طالبان کو بھائی قرار دینا اور دوسرا شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنا، جہاں تک طالبان کو بھائی قرار دینا ہے، اس حوالے سے ساری دنیا کو علم ہے کہ وہ ان کے بھائی ہیں، ایسے ہی جیسے پولیس والوں کے پیٹی بھائی ہوتے ہیں، جب پولیس والوں سے کوئی جرم سرذد ہو جائے تو اس کی تفتیش بھی اس کے پیٹی بھائی ہی کرتے ہیں، وہ جس طرح کرتے ہیں اس سے اس ملک کا بچہ بچہ واقف ہے، ویسے اے این پی کے زاہد علی خان نے خوب تبصرہ کیا ہے کہ صرف طالبان ہی نہیں پوری دنیا میں دہشت گردی کرنے والے جماعت والوں کے بھائی ہیں۔ ہمارے خیال میں اس پر جماعت والوں کو بھی اعتراض نہیں ہوگا، اس لئے کہ دنیا جسے دہشت گردی کہتی ہے، جماعت والے اسے جہاد کا نام دیتے ہیں، یہ جہاد پاکستان، عراق، شام، لبنان، مصر، یمن اور دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو جہاد ہی ہوگا۔

منور حسن نے طالبان کو بھائی قرار دے کر اس قدم سے آگے بڑھنے کی بات کی ہے، جس میں یہ کہا جاتا تھا کہ طالبان اپنے ہی لوگ ہیں، اب یہ نہیں کہا جائے گا، اب انہیں بھائی کا درجہ حاصل ہوگیا ہے، مگر اس کیساتھ ساتھ یہ بات بھی آشکار ہوگئی ہے کہ منور حسن نے طالبان کی تمام کارروائیوں چاہے وہ افواج پاکستان کیخلاف ہوں یا عوام پاکستان کیخلاف، بازاروں میں ہوں یا درباروں میں، مجالس میں ہوں یا محافل میں، مساجد میں ہوں یا امام بارگاہوں میں، جنازوں میں کی گئی ہوں یا ہسپتالوں میں، سب پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اور طالبان کی ان کارروائیوں میں قاضی حسین احمد پر ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی بھی شامل ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 19 نومبر 2012ء کے دن قاضی حسین احمد کے کارواں پر مہمند ایجنسی مین حملہ کیا گیا، جس میں وہ محفوظ رہے تھے، مگر ان کے تین ساتھی زخمی ہوگئے تھے اور ایک گاڑی تباہ ہوگئی تھی۔ رپورٹس کیمطابق یہ حملہ ایک خودکش بمبار خاتوں نے کیا تھا، جماعت اسلامی نے اسے امریکی ایجنٹوں کی کارستانی قرار دیا تھا، جبکہ طالبان کے اس وقت کے امیر حکیم اللہ محسود نے اس حملے کو برملا ایک ویڈیو پیغام میں تسلیم کیا تھا اور اپنے طویل ویڈیو پیغام میں قاضی مرحوم پر انتہائی گھٹیا اور غلیظ الزامات کی بارش کی تھی، یقیناً اگر حکیم اللہ محسود یہ پیغام ریکارڈ کرکے نشر نہ کرتا تو اس حملے کو بھی امریکہ یا ہندوستان کے افغانستان میں قائم قونصل خانوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا۔ کسی نے کہا تھا کہ
چہرے پہ مل کے خون اپنا قاتل کا نشاں دے رہا ہوں
یہ عجیب بات ہے کہ مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمٰن اور منور حسن کی شکل میں
کیوں زباں خنجر قاتل کی ثناء کرتی ہے
کل تک تو ہمارے ملک کی یہ حالت تھی کہ
وہ قتل کرکے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا ہے

مگر اب تو کھلے عام قاتلوں، لٹیروں، غداروں کی توصیف کی جا رہی ہے، انہیں عزتوں کے تاج پہنائے جا رہے ہیں، انہیں بھائی قرار دیا جا رہا ہے، دہشت گردوں کو امن کے پیامبروں کے القابات سے نوازا جا رہا ہے، یہ تاریخ میں پہلی بار نہیں ہو رہا، حق و باطل کے ازلی معرکے سے یہ سلسلہ جاری ہے، شیطانی و باطل قوتوں نے ہر دور میں یہ روش اختیار کی ہے، مگر تاریخ ان کے چہروں سے نقاب اٹھاتی رہی ہے اور آئندہ بھی اٹھاتی رہیگی۔ آج اگر منور حسن و سمیع الحق کی شکل میں امیر شام کے جانشین ہمارے ملک میں سامنے آگئے ہیں تو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمیں ان سے کوئی پریشانی نہیں، ہمیں اس ملک کی پریشانی ہے، جس کو لاکھوں قربانیاں دیکر حاصل کیا گیا تھا، آج وہ لوگ اس ملک کے مامے چاچے بن گئے ہیں جن کا اس ملک کے قیام میں ایسا ہی کردار تھا جیسا آج کے دور میں طالبان اور ان کے حامیوں کا اس ملک کو تباہ کرنے میں واضح و آشکار ہے۔ تاریخ کے وہ اوراق بھی لوگوں کے سامنے ہیں اور آج جو تاریخ لکھی جا رہی ہے، یہ بھی ان مٹ نقوش ثبت ہو رہے ہیں، تاریخ اپنے تمام تر جبر و استبداد کے باوجود جب موقعہ ملے حقائق کو کھول کر سامنے لے آتی ہے۔
نکل کر جبر کے زنداں سے جب چلی تاریخ
نقاب اٹھاتی گئی قاتلوں کے چہروں کا
حرف آخر! معروف مصنف جناب مستنصر حسین تارڑ نے اپنی ایک کتاب کا عنوان یوں دیا ہے؛ الو ہمارے بھائی ہیں؛ یہ عنوان مجھے منور حسن کے بیان کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں کے بعد بہت یاد آ رہا ہے، مجھے تو جماعت اسلامی کے امیر جیسے یہ کہتے لگ رہے ہیں؛ قاتل ہمارے بھائی ہیں۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH