gototopgototop
We have 4 guests online

پاکستان

ضیاءالحق کے جہاد افغانستان کے بعد نواز شریف کا سعودی جہاد شام PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
Written by تعمیر پاکستان   

اب اس مین کسی شک کی گنچائش نہیں رہی کہ پاکستان کے انتظامی سربراہ میاں نواز شریف پاکستان کو مکمل تباہی کے راستے پر لیکر جارہے ہیں

نواز شریف کے روحانی باپ آمر ضیاء الحق نے امریکہ اور سعودی عرب سے ڈالر لیکر پاکستان کے مستقبل کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے حوالے کردیا تھا اور پاکستان کو عملی طور پر دھشت گردی کو برآمد کرنے والے نئے تکفیری دھشت گرد دیوبندی مدارس کی جنم بھومی بنا ڈالا تھا جس نے مدارس عربیہ کے پراںے پرامن ڈھانچے کو پچھلی صفوں میں دھکیل کر ڈرآئیونگ سیٹ پر خود قبضہ کرلیا

جنرل ضیاء کے نام نہاد جہاد کے بدترین نتائج سے اب سب واقف ہیں ،پاکستان نے اس کی قیمت بلین ڈالرز میں ادا کیا ہے ،انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے جس سے دھشت گردی میں بڑے پیمانے پر دھشت گردی پھیل گئی ،لاقانوینت میں اضافہ ہوا،اقتصادی مساوات کا عمل رک گیا اور انسانی سرمائے کی ترقی رک گئی

سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے ان کو صرف ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہی نہیں دئے بلکہ باقی کہ ایک اشاریہ تین ارب ڈالر ابھی آنے باقی ہیں اور شرائط کیا ہیں بقول حکومت کچھ بھی نہیں

لیکن تعمیر پاکستان ویب سائٹ بھی پاکستان اور انٹر نیشنل تجزیہ کاروں اور باخبر حلقوں کی طرح یہ خیال کرتی ہے کہ سعودی عرب کی اپنے سرمایہ سے کثیر حصّہ پاکستان کو اس لیے دے رہا ہے کہ وہ اس کے پیچھے ایک گہرے قسم کے سٹرٹیجک تعاون کی مانگ کررہا ہے

ہم جانتے ہیں کہ سویت یونین کے خلاف ڈالر پلس ریال کے بدلے سعودی عرب اور امریکہ نے پاکستان کو خریدا تھا اور پاکستان کی ریاست کے کرتا دھرتا دھرتا افغان جہاد میں ایسے مگن ہوئے کہ اس کاروبار سے ہٹنے کا نام ہی نہ لیا

آج بھی کھلاڑی وہی ہیں بس مقام بدل گیا ہے اور مقام ہے شام

شام وہ ملک ہے جو مڈل ایسٹ میں سامراجیت اور اس کے عرب حامیوں کے خلاف بننے والے اتحاد کا حصّہ ہے اور امریکہ اور مغرب کی حکومتیں شام کو اس مزاحمت کا حصّہ بننے اور امریکی سامراجیت کے خلاف روس اور چین کا اتحادی بن جانے کی سزا دینا چاہتے ہیں جبکہ سعودیہ عرب اور اس کے اتحادی شام کو سلفی تکفیری دھشت گردی کا حصّہ نہ بننے اور سعودیہ عرب کی باج گزار ریاست بن کر نہ رہنے کی سزا بشار الاسد کو دینے کے خواہش مند ہیں

شام نے امریکہ،مغرب اور سعودیہ عرب کی منشا کے خلاف چلنے کا بہت نقصان اٹھایا ہے،اس کے شہری لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے یا مہاجر ہوگئے اور شام کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا اور شام میں سلفی-دیوبندی دھشت گردی کا عفریت پیدا ہوگیا لیکن اس کے باوجود شامی وجود اور بشارالاسد کی حکومت قائم ہے

سعودی عرب اس بات کا ادراک کرچکا کہ شامی فوج ،بشار الاسد اور شامی عوام کے اتحاد کو شکست دینے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور وہ شام کے اندر زیادہ خون آشام کلنگ مشین لیکر آنا چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس کی نظر انتخاب اگر کہیں آکر ٹھہری ہے تو وہ پاکستانی فوج،اس کے ہتھیار اور اس کی نام نہاد جہادی گوریلے پیدا کرنے اور ان کو تیار کرنے کی خصوصی صلاحیت ہے

پاکستان کی اس مہارت سے فائدہ اٹھانے کے امکانات اس لیے بھی اسے روشن تر نظر آرہے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت اس کے اپنے خاص آدمی نواز شریف کی حکومت ہے

نواز شریف کو سعودی حکمران اپنا بندہ قرار دیتے ہیں اور پاکستان میں ایک سعودی سفیر کے بقول پاکستان میں سعودی عرب ایک مشاہدہ کار نہیں بلکہ شراکت دار کی حثیت رکھتے ہیں

پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ اس طرح کی سٹرٹیجک شراکت داری کے تباہ کن اثرات کا اندازہ لگایا جانا مشکل نہین ہے کیونکہ ابھی تو پاکستان جنرل ضیاء الحق کے دور سے افغان جہادی پروجیکٹ کے اثرات سے باہر نہیں نکلا ہے اور شام میں سعودی سپانسرڈ جہاد پاکستان کے اہل تشیع،بریلوی،کرسچن،ہندؤ،احمدی اور سیکولر لبرل حلقوں کو مزید مارجنلائز کرے گا جبکہ یہ پہلے ہی ایک جہنم کا سامنا کررہے ہیں جو افغان جہادی پروجیکٹ کے نتیجے میں دیوبندی کنگ مشین جیسے ٹی ٹی پی اور اہل سنت والجماعت کی مذکورہ بالا مذھبی برادریوں کے خلاف منظم دھشت گرد مہم کا سامناکررہے ہیں

کسی بھی باشعور آدمی کے لیے اس طرح کی پالیسی کے تباہ کن نتائج کا سمجھا مشکل نہیں ہے چند ڈالر جن سے شریف فیملی اور مخصوص قسم کے تاجروں،پاکستان آرمی کے چند جرنیلوں اور دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کا فائدہ ہوگا لیکن اس کی قیمت پاکستان کی آنے والی نسلیں ادا کریں گی جیسے افغان جہاد سے چند لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور قیمت پوری قوم چکا رہی ہے

ماضی میں یہ سویت روس تھا،آج یہ محض روس ہے،میدان افغانستان تھا اور آج شام،ایران اور بحرین وغيرہ ہے کھلاڑی وہی ہیں ،پاکستان نئے دشمن پیدا کررہا ہے ضیاء کی دیوبندی باقیات کا کھیل جاری ہے جس نے پاکستان کی ریاست کا حلیہ بگاڑ کررکھ دیا ہے

ماضی میں دشمن پاکستان کی سرحد کے ساتھ تھا آج پاکستان اپنی سرحد سے دور دشمن کی تلاش میں جارہا ہے جہاں دشمن پاکستان سے اپنی مرضی کے مطابق نمٹے گا

نواز شریف یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ اس منصوبے میں شرکت تباہ کن اقدام ہے کیونکہ ان کی جیب تو سعودیہ عرب کے مال سے گرم ہورہی ہے،یہ امداد بھی نہیں ہے بلکہ خون بہا کی ادائیگی ہے ان لوگوں کی جو بحرین،ایران ،شام ،لبنان اور عراق میں جاکر سنّی صوفی ،شیعہ اور کرسچن و علویوں کو قتل کررہے ہیں یا کریں گے اور اس دوران خود بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے اگر یہ امداد ہوتی تو سٹیٹ بینک کے پاس جاتی

پاکستان آرمی کو چنگوں کی ضرورت ہے اس سے اس کے سائز میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی رسائی کا دائرہ بھی بڑھتا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ فوجی جرنیلوں کی اکثریت شام میں عاقبت نااندیشی کے ساتھ جنگ میں شرکت سے راضی ہے کیونکہ جنگیں ان کے لیے منافع بخش ہیں اور وہ اپنے ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھیں گے اور وہاں تکفیری دیوبندیوں کو بھیجتے رہیں گے تاکہ شام،عراق،بحرین وغیرہ میں شیعہ،صوفی سنّی ،کرسچن مارے جاتے رہیں

جرنیل،گنی چنی اربن اشرافیہ،دیوبندی مذھبی پیشوائیت اس نئی جنگ سے پیسہ کمآئے گی دیوبندی نوجوان اور عام سپاہی اس جنگ کا ایندھن بنیں گے اور مریں گے جبکہ پاکستان کی عوام خاص طور پر شیعہ ،بریلوی ،سکھ،عیسائی،احمدی اور سیکولر لبرل اس کی قیمت چکائیں گے

نواز اور جرنیل کبھی بھی اس راستے سے واپس نہیں آئیں گے کیونکہ ڈالروں میں بڑی کشش ہے مگر پاکستان کے عوام کا کیا ہوگا اس کی فکر کم از کم نواز شریف اور جرنیلوں کو تو نہیں ہے

کیا یہ بات خارج از امکان ہے کہ پاکستان میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے ہاتھ چڑھ جائیں؟

یہ سوال اٹھانے پر آپ تعمیر پاکستان ویب سائٹ کو امریکی ایجنٹ یا کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن کل جب جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے ممکنہ نتائج پر اہل دانش و فکر پیشن گوئی کرتے تھے تو ان کو کمیونسٹ ،دھریئے اور ففتھ کالمسٹ روسیائی ایجنٹ کہہ کر مطعون کیا جاتا تھا لیکن ہونی تو ہو کر رہتی ہے فتوے اور دشنام طرازی سے حقائق کو چھپایا نہیں جاسکتا

تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے الیکشن کے بعد نواز حکومت کے قیام سے جب نواز شریف کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کا سیاسی چہرہ لکھنا شروع کیا اور اس حکومت کے ممکنہ عزائم کی نشاندھی کی تو اس پیشن گوئی کو مبالغہ آرائی اور غلو قرار دیا گیا

لیکن آج کم از کم اہل تشیع،اہل سنت بریلوی،کرسچن،احمدی ،ہندؤ کی اکثریت اور ان کی نمائندگی کرنے والی اکثریت ،پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم کے اکثر رہنماء یہ تسلیم کررہے ہیں

پاکستانی اور انٹر نیشنل میڈیا کا ایک حصّہ اب دیوبندی تکفیری کلنگ نیٹ ورک اور اہل سنت بریلوی میں واضح فرق کررہا ہے اور اسے سنّی شدپ پسندی سے ہٹ کر دیوبندی-سلفی کلنگ نیٹ ورک کے طور پر لے رہا ہے

پاکستان کے اندر شیعہ،سنّی بریلوی،کرسچن،ہندؤ،احمدی،لبرل لیفٹ سیاسی حلقوں اور میڈیا کے ایک سیکشن کے درمیان اور چند اعتدال پسند دیوبندی ،اہل حدیث حضرات کے درمیان تکفیری دیوبندی کلنگ نیٹ ورک،جرنیل اور نواز شریف اینڈ کمپنی کے سعودی عرب کے ساتھ گٹھ جوڑ کے خلاف ایک اتفاق رائے پیدا ہونے کے امکانات روشن ہیں

ضیاءالحق کے جہاد افغانستان کے بعد نواز شریف کا سعودی جہاد شام - See more at: http://lubpak.com/archives/309641#sthash.ZUm1P7Hn.dpuf
 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH