gototopgototop
We have 22 guests online

پاکستان

دیو بندی دینی مدارس دہشت گردی کے مراکز PDF Print E-mail
User Rating: / 2
PoorBest 
Written by Administrator   

یہ بات اب کھلا راز بن چکی ہے کہ کراچی کا جامعہ بنوریہ جہاں طالبان اور اہل سنت والجماعت کی بڑی پناہ گاہ ہے، وہیں دار العلوم کبیروالہ بھی ان دہشت گردوں کی نظریاتی فکری تربیت کی آماجگاہ بنا ہوا ہے

 


گزشتہ چند دہائیوں میں استعماری طاقتوں نے عالم اسلام کے اتحاد کے باعث اپنی موت کو سامنے دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی،چھوٹے موٹےمولویوں کو خرید کر فتوی سازی کی دکانیں کھلوائیں،بے دین اور اوباش لوگوں کو اسلحہ اور ٹریننگ دے کر اسلام میں کمیونزم اور سوشلزم کی ملاوٹ کرنے کوشش کی،دینی مدارس کو جہاد کے نام پر دہشت گردی میں ملوث کر کے دنیا کو اسلام اور جہاد سے متنفر کرنے کی سازش کی،بڑے پیمانے پرفرقہ وارانہ لٹریچر کی نشروشاعت کی گئی، مساجد و اما بارگاہوں نیز اولیاء کرام کے مقدس مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر لوگوں کو اسلام سے ڈرانے اور دور کرنے کی سعی کی گئی اور جب روس کے خلاف نام نھاد جہاد کا زور ختم ہوا تو ضرورت اس امر کی تھی کہ ان جاہل دہشت گردوںکا قلع قمع  کیا جائے کہ کہیں یہ مغرب کے لئے واقعہ خطرہ نہ بن جائیں ایسے میں اسامہ بن لادن اور اس کی ٹیم ہی کو ایسے ڈرامے میں الجھا کر ١١ﺍ۹ کا سین کرایا کیا گیاکہ خود انھیں بھی مرتے دم تک  سی آئی اے کے کردار کا مکروہ چہرہ عیاں نہیں ہو سکا اور جاہل ملاوں کو امریکی  جہاد کی چھتری تلے چھوڑ کر چلے گئے اور یہ جاہل ملا افغانستان کے بعد پاکستان میں مسلمان کشی  کرکے امریکہ کی خدمت میں مصروف ہوگئے اور اس کے بعد یہ دہشت گرد دوسرے امریکی محازوں جیسے بحرین،یمن،شام اور عراق میں امریکی  مدد اور راہنمائی سے مسلم کش جہاد میں مصروف ہو گئے ہیں ۔

امریکی  جہادیوں نے جاہل ملاوں کو ہی استعمال کیا جیسے کہ  ملا عمر کو کہ جب ملا عمر نے پاکستانی علما سے گذارش کی بامیان اور وادی پنج شیر کو فتح کرنے کے لئے میری مدد کی جائے پھر کیا تھا۔ پورے پاکستان میں جہاد کی کال دی گئی۔اکوڑہ خٹک کے مدرسہ سے اور اس سے الحاق شدہ مدارس سے تقریبا دس ہزار مجاہدین جہاد کے لئے اور افغانستان کی سرزمین پر مخالفوں کو قتل کرنے نکلے۔ بنوری ٹاون سے ٤ ہزار طلبہ جہاد پر گئے
حوالے کے لئے دیکھیں کتاب (طالبان )
کوئی پاکستانی سیکورٹی ادارہ نہیں بولا۔ سب خاموش تھے۔

یہ بات اب کھلا راز بن چکی ہے کہ کراچی کا جامعہ بنوریہ جہاں طالبان اور اہل سنت والجماعت کی بڑی پناہ گاہ ہے، وہیں دار العلوم کبیروالہ بھی ان دہشت گردوں کی نظریاتی فکری تربیت کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور جامعہ فاروقیہ کراچی جس کا انتظام و انصرام وفاق المدارس کے صدر مولوی سلیم اللہ خان کے پاس ہے بھی دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ مولوی سلیم اللہ خان،قاری حنیف جالندھری، مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی ، مولوی سمیع الحق، مولوی فضل الرحمان سمیت دیوبندی مولویوں کی فرنٹ لائن دیوبندی تکفیری دہشت گرد نیٹ ورک کے بارے میں جو رویہ اپنائے ہوئے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے ایسا نہیں ہے جس کو دیکھ کر یہ کہا جائے کہ وہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کی تکفیری خارجی آئیڈیالوجی سے کوئی اختلاف رکھتے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا تھا کہ رائے ونڈ کا تبلیغی مرکز انتہاپسندی کی پرورش گاہ ہے جو انتہا پسندوں کی برین واشنگ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں ایک سکیورٹی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس ) میں جنوبی ایشیاء میں انتہا پسندی کے انسداد پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گرفتار کئے جانے والے تمام انتہا پسندوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہ رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز جاتے تھے، ان کے قریبی عزیزوں نے افغان جہاد میں حصہ لیا اور انہوں نے پاکستان میں واقع25000 اسلامی مدرسوں میں سے کسی ایک میں تعلیم حاصل کی۔ رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو بیرون ملک سے مالی مدد ملتی ہے، جن میں بھارت اور افغانستان سرفہرست ہیں، جو دہشت گردی کے سرپرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ انتہا پسندوں کو بیرون ملک سے مدد مل رہی ہے کیونکہ ایک ملا لیزر گائیڈڈ میزائل، انٹرنیٹ اور جدید ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا، انہوں نے کہا کہ القاعدہ مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتی، رحمن ملک نے کہا کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرے اور پاکستان پر شک کر کے اس کی قربانیوں کا مذاق نہ اڑائے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دینی مدارس کو دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی حکومت ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ پرصوبائی حکومت نے دینی مدارس کی مانٹیرنگ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، ریکارڈ اور فنڈنگ کی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ صوبہ پنجاب میں دینی مدارس کی کل تعداد10ہزار434 ہے۔ان مدارس کو3کیٹگریز میں تقسیم کیا گیاہے۔

اے کیٹگری انتہائی خطرناک۔بی کیٹگری خطرناک اور سی کم خطرناک شامل ہیں۔545مدارس خطرناک قراردیئے گئے ہیں،جن میں سے28 اے کیٹگری میں شامل ہیں،اے کیٹگری کے انتہائی خطرناک مدارس میں سب سے زیادہ11 مدارس ملتان میں ہیں۔لاہورمیں ان کی تعداد3ہے۔

بی کیٹگری کے خطرناک مدارس کی تعداد255اور سی کیٹگری کے کم خطرناک مدارس کی تعداد 262ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ پرصوبائی حکومت ان مدارس کے ریکارڈ اور فنڈنگ کے حوالے سے تفصیلات حاصل کررہی ہے۔اور ان کی نگرانی مزیدکڑی کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گزشتہ چھ سالوں میں گرفتار اور زیرتفتیش رہنے والے 430 دہشت گردی کے ملزموں میں سے 55 فیصد سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ سکولوں سے پڑھے ہوئے جبکہ 29 فیصد اَن پڑھ تھے جبکہ 10 فیصد دینی مدرسوں سے پڑھے ہوئے تھے۔ یہ تمام ملزم بم دھماکوں، خود کش حملوں، فرقہ ورانہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے پر حساس اداروں یا پولیس نے پکڑے تھے۔ 90 فیصد ملزموں کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں۔

25 فیصد غربت کی وجہ سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ 12 فیصد فیملی کے پہلے سے جرائم، فرقہ واریت میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس طرف راغب ہوئے اور کم عمری میں انہوں نے جیلیں کاٹیں۔ 25 فیصد نے میٹرک یا ایف اے کی تعلیم سکولوں سے حاصل کی ہیں ۔ 12 فیصد نے اپنی تعلیم فیملی بزنس کی وجہ سے چھوڑ دی جس کے بعد وہ دہشت گرد تنظیموں کے افراد کے ہتھے چڑھ گئے جبکہ 2 فیصد ایم اے یا اس سے زیادہ تعلیم کے حامل تھے اور 2 فیصد نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی تھی ۔ ان دہشت گردوں کی فیملی اور ان کے ریکارڈ کی چھان بین کے دوران انکشافات ہوئے ہیں جس کے مطابق غربت کی وجہ سے دہشت گردی کی طرف راغب ہونے کا رحجان کم ہے جبکہ مذہبی تعلیمی اداروں کے لوگ ہی دہشت گردی میں ملوث نکلتے ہیں۔ اس بارے میں ان 430 دہشت گردوں کی ریکارڈ کی چھان بین کے مطابق ان میں 135 اَن پڑھ تھے، 40 مدرسہ میں پڑھے تھے۔ 119 نے میٹرک یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کی تھی۔جبکہ 49 پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم رہے ہیں۔ پرائمری تک 55 نے مڈل تک 90 نے تعلیم حاصل کی میٹرک ایف اے تک 102 نے، بی اے 15 نے کیا تھاجبکہ ایم اے یا اس سے زیادہ تعلیم 12 نے حاصل کی ہوئی تھی۔ 20 سے 30 سال کی عمر تک 152 افراد دہشت گردی میںملوث تھے۔ اسی طرح 30 سے 40 سال کی عمر کے 160 دہشت گرد تھے۔ غربت، گھریلو افراد کی وجہ سے 95 دہشت گرد تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ چھوٹی عمر میں فیملی کے جرائم کی وجہ سے 40 اس طرف راغب ہوئے۔ بزنس اور فیملی کی دیگر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 42 نے تعلیم چھوڑ دی۔ 20 کے گاﺅں میں سکول نہیں تھے۔

دہشت گردی کے 29 ملزم ایسے ہے جو تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتے تھے۔ ان میں محمد عزیز عر ف گجر، عمران عرف بوبی، غلام قادرعرف حیات اللہ، محمد یاسر، سید محمد مسعود، عبدالمعید عرف اختر، محمد صدیق عرف عبداللہ، ہارون رشید عرف علی، غلام قاسم، عزیز الدین، محمود احمد، محمد اسلم، اسلم معاویہ، عبید اللہ اصغرعرف حافظ اظہر آزاد، مفتی صغیر احمد، محمد نواز، عبدالحق، محمد اکرام الحق عرف لاہوری، عید محمد عرف عبدالرحمان،محمد شکیل شاہ، اشفاق، قاری محمد طیب، محمد زاہد، حجرت اللہ، سخی شاہ، تحصیل خان، دلاور سعید، محی الدین، عبدالبصیر، عبدالرحمان، ندیم حسین، محمد شہزاد، محمد عثمان آقا، محمد خلیق الرحمان، نصراللہ، محمد ندیم بٹ، محمد کبیر، قمر زمان، عابد خان، ظفر علی، محمد اسحاق، حافظ مسعود،محمد سلیم چوہان، آصف محمود، محمد نصراللہ، اسد علی، عبداللہ، محمد معاویہ، عبدالوہاب، عابد اکرم، سرفراز، صابر احمد، عمر حیات، حافظ محمود، ارشد علی، حافظ عمرآن، عدنان ساجد، سلیم شہزاد حمزہ، ضیاالرحمان، محمد طارق، محمد عزیز، عمران بوبی، غلام قادر، محمد یاسر، سعید محمد مسعود، عبدالمعید، شہزاد، عامر، وقار، ادریس، بلال، جاوید، عمرآن، مشتاق، نعیم، اصغر، خالد محمود، ظفر اقبال، جمیل، لیاقت، مدثر پرویز، قیصر، غلام مصطفے، ملک، قاسم، نواز، ملک غلام رسول، قاسم لیاقت، نواز انور، طاہر مقبول، سرفراز بشیر، ذوالفقاربشیر، ذبیع اللہ، مدثر سلطان، صابر منظور، نواز شریف، شفیق عبدالحق، طاہر حسین، لازر مسیح، سمیع اللہ، ثناءاللہ، منصورارشد، احمد حنیف، نور طاہر، یعقوب ناصر، منظور برکت، جمیل احمد، محمد یونس، مظہر اقبال، شاہد جمیل، عبدالواجد، حماد امین، ذکی الرحمان، رفاقت حسین، شیر زمان، عبدالرشید، عزیز شاہ، حسنین گل، ظہیر اقبال، اکرام سعید، طاہر اسماعیل، محمد نسیم، شاہد علی، ارشد محمود ستی، شجاع الدین، اعزاز الرحمان، ڈاکٹر علی عمران، محمد رفیق، مبشر محبوب، حافظ عبدالحفیظ، دنیاگل، ثاقب علی شاہ، عثمان لیاقت، وحید احمد، محمد اعجاز، فیصل عرفان، محیب اللہ، حجرت گل، سید نجیب اللہ، رانا فقیر، بہادر شاہ، محمد سلطان محمود، عالم خان، فتح گل، رحمت شاہ، گل محمد، نصیب شاہ، گل غنی، عثمان علی اشرف، عبدالخالق، انعام اللہ، محمد عبداللہ عمر، عدنان گل، خالد سیف اللہ، انتخاب احمد، خستہ رحمان، عامر سہیل، رانا محمد نوید، محب اللہ، میران جان، علی خان سابق برئگیڈئیر ۔ میجر سہیل اکبرخلیل، عنایب عزیزسابق میجر، افتخار احمدمیجر، جواد بصیر، حمید اللہ، عمر عدیل، خالد محمود، حبیب اللہ، طاہر محمود، حافظ نصیر، ملک محمد، کرم الدین، نواش علی، مشتاق احمد، عبدالباسط، نثار احمد، مولوی محمد صدیق، قاری احمد خان، محمد سلیمان، عبدالمنان، شجاعت علی، رفیع اللہ، عمان حسین، احمد عبداللہ، وقار حسین، عمر فاروق، عنایت اللہ، نجم الحسن، عبدالملک، غلام نبی، عدیل احمد اسرار الحق، عدنان، واجد محمود، اسرار محمد، ظفر اقبال، محمد یوسف، قاری عظمت، عبدالرحمان، حامد نواز، عثمان غنی، عبدالرحمان، زبیر احمد، ارشد محمود، راشد قریشی، غلام سرور، اخلاص احمد، محمد ملک، محمد ارشد آصف، محمد سبطین جعفری، فضل عباس، اعجاز حسین، ملک اعجاز حسین، اسد رضا، انور شاہ، فلک شیر، منور عباس، غلام قمر، لیاقت حسین، صفدر عباس، منیر حسین، محمد اسماعیل، غلام محمد، نذر محمد، محمد عابد، محمد کاشف، تنویر بخش، سلیم زمان، عبداللہ رحمان، عبدالحئی، تنویر حسین، زیشان حیدر، قیصر عباس، محمد جہانگیر، حسنین احمد، محمد عمر، محمد منشائ، حبیب اللہ، غلام یاسین، محمد طارق، محمد نواز، محمد اختر، غلام مصطفے، محمد اسلم، محمد مکی، محمد مظہر، محمد صدیق، ہزارے خان، عبدالحمید، محمد صادق، محمد اجمل، غلام عباس، آصف رشید، انجم اقبال، محمد حسین،محمد پرویز، حیدر مون، بشیر احمد، محمد حنیف، محمد جمشید، محمد بلال، محمد جمیل، علی نواز، عبدالرحمان، غضنفر عباس، عثمان نبی، غلام اکبر، غلام صابر، راشد محمد، محمد رمضان، زبیر یقعوب، محمد کاشف، اکبر صفی، قیصر عباس، مختاربخش، محمد رمضان، محمد اقبال، محمد رفیق، خالد محمود، محمداقبال، محمد عامر، مشتاق احمد، محفوظ احمد، غفور احمد، طیب شاہ، محمد رفیق، محمد اقبال، سجاد احمد، محمد شفیع، اللہ دتہ، محمد اشرف، رفاقت حسین، محمد خان، اصغر علی، عبدالمجید، شاہد اقبال، محمد عارف، محمد نفیس، محمد نواز، قربان عبدالحق، گل محمد، اشرف الدین، فقیر اللہ، نادر عباس، وزیر احمد، طاہر محمود، امان اللہ، محمد اصغر، اکرم بخش، امین خدا بخش، اللہ دتہ، محمد اسد، محمد اجمل، امام بخش، ایوب الدین، اشرف غلام، محمد اسلم، محمد اعجاز، محمد اسلم، اللہ دتہ، محمد اشفاق، امان اللہ، محمد ندیم، احمد علی، غلام صابر، مشتاق احمد، مشتاق شفیق، خلیل یامین، شوکت محمد، محمد عباس، محمد وسیم، قاری عمر حیات، ایم یونس خان، ماسٹر ریاض علی، محمد عثمان، سفیر احمد، نور محمد، اصغر اسلم، رئیس شاہ، مختارحکیم، محسن بگٹی، محمد ابرار، محمد حسین، دلاور حسین، امان اللہ، ساجد اختر، نیا ز محمد، محمد ایوب، محمد عابد، عبدالطیف، محمد شفیق، خالد محمود، عمر فاروق، محمد شہباز علی، محمد طاہر شفیق، عمرآن صدیق، محمد یونس، عمر فدائی، بہرام خان، سجاد احمد، عبدالرحیم، محمد افضل، حافظ سلیمان، محمد اعجاز، محمد عمیر، محمد ابرھیم، محمد عمرآن، راشد علی، عبدالشکور، محمد سلیم، محمد یونس، غلام عباس، سردار فقیر، بہاور شیر،ایم عارف، مختار احمد، ملک محمد اسحاق، احسان الحق، ارشد ضمیر، میلاد اسحاق، شہباز اجمل، اشفاق فرید، وقار احمد، مجاہد بشیر، مجاہد عباس، شہباز، شاہد حمید، طاہر حسنین، ایم جاوید، سجاد شاہ، ایم مجاہد، جی صابر، نصراللہ گل، نعیم حیدر، غلام مصفطفے، محمد اسماعیل، مشتاق صادق،ڈاکٹر بشیر احمد، وزیر احمد، محمد طارق، محمد حنیف، قاری عصمت اللہ، محمد جمشید، شاکر حسین، وسیم عباس، قطب وزیر، مرید حسین، میر احمد، منیر احمد، شریفین، شکیلہ، حافظ بی بی، غلام فاطمہ، ممتاز تاجو شامل ہیں۔

سنی تحریک لاہور سٹی کے صدر کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کو حکومتی تحویل میں دینے یا ان کی تلاشی کروانے سے صرف وہی لوگ خوفزدہ ہیں جنہوں نے دین کے نام پر مدارس میں دہشت گردی کے اڈے قائم کر رکھے ہیں، دینی مدارس کا غلط استعمال کرنے والے اسلام اور پاکستان سے رو گردانی کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس ) میں جنوبی ایشیاء میں انتہا پسندی کے انسداد پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گرفتار کئے جانے والے تمام انتہا پسندوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہ رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز جاتے تھے، ان کے قریبی عزیزوں نے افغان جہاد میں حصہ لیا اور انہوں نے پاکستان میں واقع25000 اسلامی مدرسوں میں سے کسی ایک میں تعلیم حاصل کی۔


 

دارالعلوم دیوبند یعنی دیوبندی مسلک نہ تو قیام پاکستان کا حامی تھا اور نہ آج تک وہ حامی بن سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حالات میں دیوبندی مسلک کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے ، ان کے مدارس، مساجد، تحریر، تقریر اور ان کے دہشت گردوں اور خودکش بمباروںسے تعلقات پر حکومت پاکستان کو سخت ایکشن لینا چاہئے اور پرامن مسلمانوں کو ان کی تخریبی دہشت گردی سے بچانے کے لئے ضرور بالضرور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس مضمون میں غیر جانبدار صحافیوں کے تاثرات پیش کرنے کی حقیر سی کوشش کی ہے جس کی روشنی میں عامتہ المسلمین کو اپنا لائحہ عمل بنانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔

مدارس دہشت گردی میں نہ صرف ملوث ہیں بلکہ دہشت گردی کی اصل جڑیں بھی یہی مدارس ہی ہیں اب دیکھنا یہ کہ وہ کونسے مدارس ہیں؟

دہشت گردی کی اس جنگ میں مدارس کا کردار واضح ہے ان میں سے کچھ مدارس سے ایک سروے کیا گیا،کچھ مدارس نے حقیقت کا اظھار کیا کچھ نے لا تعلقی اختیار کی اور کچھ مدارس نے منافقانہ رویہ اپنایا اور سوالوں کے جواب برعکس دیئے بہر حا ل آپ کی خدمت میں حاضر ہیں

57 فی صد مدارس نے اس رائے کا اظہار کیا کہ یہ جنگ اسلام اور مسلمانوں پر مسلط کی گئی ہے اور دہشت گردی کی آڑ میں دراصل اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کو کچلنے کی سازش ہے۔ 31 فی صد نے اس نظریے کی بغیر کسی پس و پیش کے حمایت کی صرف 13 فی صد مدارس ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی دہشت گردی کی مہم کے خلاف اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب کہ 77 فی صد نے مخالفت کی لیکن تمام مدارس نے دہشت گردی کے روایتی نظریے سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کی رائے میں پاکستان کو اس وقت تحریک کا حصہ بننا چاہیے جب کہ یہ مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے خلاف نہ ہو۔ کچھ نے امریکہ کو سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا۔ مزید برآں صرف 7 فی صد نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی حمایت کی جب کہ 81 فی صد نے مخالفت کا اظہار کیا 12 فی صد نے محض دہشت گردی کی تعریف پر بحث کی اور کوئی واضح عندیہ نہیں دیا۔

شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے 23 مدارس میں سے 16 نے مسلمانوں کے ہاتھوں دیگر مسلمانوں کے قتل کو اصل دہشت گردی سے تعبیر کیا ساتھ ہی 70 فی صد شیعہ مدارس نے پاکستان کی عالمی دہشت گردی کی جنگ میں حصہ لینے کی نہایت سختی سے مخالفت کی اور اسے استعمار کی سازش قرار دیا۔


69 فی صد بریلوی مدارس کی تقریباً نصف تعداد نے دہشت گردی کو امریکہ کی ان پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جو کہ سویت یونین کے خلاف اقدامات کا منظقی نتیجہ تھا۔ تاہم 35 فی صد نے اسے نہایت اہم مسئلہ قرار دیا جب کہ 17 فی صد نے پاکستان کو عالمی برادری کا حصہ دار بننے کی رائے کا اظہار کیا۔

جماعت اسلامی کے 14 مدارس میں سے 11 مدارس کی رائے میں دہشت گردی کی جنگ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کو نشانہ بنانے اور عام طور پر مسلمانوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ جماعت کے تمام مدارس نے پاکستان کو عالمی پروپیگنڈے سے علیحدہ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا اور قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف عسکری کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت کی ۔ اہل حدیث مدارس نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ 30 میں 5 نے اس سروے کے دوران دہشت گردی کی جنگ کو انتہائی سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔

دیو بندی مدارس میں سے تقریباً 20 فی صد نے دہشت گردی کی جنگ کو ایک مسئلہ ضرور قرار 115 میں 103 دیوبندی مدارس نے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے 3 دیو بندی مدارس نے حکومتی عسکری کارروائی کی حمایت کی۔

ابھی چند خبریں نمونے کے طور پر پیش خدمت ہیںۛ

گوجرانوالہ: پولیس نے ملا عمر کے استاد قاضی حمید اللہ کے دو مدارس پر چھاپہ مار کر نامکمل دستاویزات کے حامل 9 ازبک شہریوں سمیت 15 طلباء کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایلیٹ فورس،ڈسٹرکٹ پولیس اورخفیہ ادارے کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر سابق رکن قومی اسمبلی موحوم قاضی حمیداللہ کے دومدارس مظاہر العلوم اور انوار العلوم میں چھاپہ مارا، کارروائی کےدوران دونوں مدارس کےتمام کمروں کی تلاشی لی گئی اور طلبا کے کوائف کے بارے میں پوچھ گچھ کی، اس دوران پولیس نے  نامکمل سفری کوائف کے باعث 15 طلبا کو حراست میں لے کر انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

پولیس نےدعوی کیا ہےکہ حراست میں لئے گئے طلباء میں سے 9 کا تعلق ازبکستان سے ہے جبکہ ایکسپریس نیوز کے مطابق دونوں مدارس پر کارروائی سانحہ چلاس کی تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد کی روشنی میں کی گئی ہے جبکہ حراست میں لئے گئے طلبا پر بھی چلاس میں کوہ پیماؤں اور قانون نافذکرنے والےاداروں کےافسران کوقتل کرنے کا الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔

واضح رہے کہ دونوں مدارس 2002 کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے ایم ایم اے کے مرحوم رہنما قاضی حمیداللہ نے قائم کئے تھے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ افغان طالبان کے امیر ملا عمر کے استاد رہ چکے ہیں۔

گوجرانوالہ پولیس اور حساس اداروں کے اہلکاروں نے طالبان کے لیڈر ملا عمر کے استاد کے دینی مدارس سے شناخت نہ کروانے والے اکیس غیر ملکی طلباء کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

گوجرانوالہ کے علاقے شیرانوالہ باغ کے قریب پولیس اور حساس اداروں کے اہلکاروں نے سابق مرحوم ایم این اے قاضی حمید اللہ کے دو مدارس مظاہرالعلوم اور انوارالعلوم میں چھاپے مار کر وہاں پر زیر تعلیم اکیس غیر ملکی طلباء کو شناخت نہ کروانے پر حراست میں لے لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ حراست میں لئے جانے والے طلباء کا تعلق افغانستان اور علاقہ غیر سے ہے۔

مرحوم قاضی حمید اللہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں حلقہ این اے چھیانوے سے ایم این اے منتخب ہوئے تھے، جن کا شمار طالبان لیڈر ملا عمر کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔

پشاور پولیس نے یکہ توت اور شہر کے دیگر علاقوں میں قائم دینی مدارس میں کریک ڈاون کیا اور غیر قانونی طور پر مقیم انتالیس غیر ملکی طلباء کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ان طلبہ کے پاس پاکستان میں قیام کی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف حملوں میں گرفتاردہشت گردکاتعلق رحیم یارخان سے ہے،جیو ٹی وی کے پروگرام پچاس منٹ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہدہشت گرد نے کراچی کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔ان کا کہناتھاکہ دہشت گردوں کے سرغنہ نے2افرادکوماڈل ٹاؤن ،3کوگڑھی شاہوپہنچایا?

سچ بات ہے دیوبندی مدارس میں کل طلبہ تقریباً 20 لاکھ ہیں اور پاکستان کی کل افواج 7 لاکھ سے زیادہ نہیں

پچھلےدس سالوں میں کچھ مدراس کو ایک چھاونیوں کی طرز پر بنایا گیا جس میں رہنے والے طالبان کو باقاعدہ رہائش ،کھانا اور وظیفہ ملتا ہے

دیوبند مدارس کا ہر طالب خودکش دھماکوں کا حمایتی ،ملا عمر کو اپنا امیر کہنے والا اور شیعہ اور سنی بریلویوں کو کافر کہتا ملے گا

مدارس مافیا نے نے پولیس والوں کو بھی خرید رکھا ہے اور بڑے مفتیوں کے اجنسیوں سے تعلقات ہیں

پاکستان کے دیوبند مدارس نے طالبان کی مدد سے ریاست پر قبضہ کی تیاری کر رکھی ہے

اصل دیوبند مدارس میں دکانیں بھی نہیں ہیں ، انکا پیسا کہیں اور سے آتا ہے

ایک بڑے دیوبند مدرسے کا ایک دن کا خرچہ لاکھوں میں ہے،وہاں پرطالبان کےلئےافرادی ،سیاسی قوت پیدا کی جاتی ہےاوروزیرستان میں عسکری تربیت

دیوبند مدرسے جامعہ اشرف المدارس کراچی کےکروڑ پتی مالک حکیم مظہرنےاپنےمدرسے کی بچی سے دوسری شادی کی جوانسے چالیس سال چھوٹی ہے

میں اورکچھ اور دوست کئی سال سے کہتے آ رہے ہیں دیوبندی مدارس ریاست کے لئے کتنا بڑا خطرہ ہیں- لوگ پہلے تو بلکل نہیں مانتے تھے اب کچھ کچھ ماننے لگے

سوات جیسے طالبان کے قبضے کی پورے پاکستان کے دیوبند مدارس میں تیاری ہے ، اگر فوج ناکام ہوئی تو ریاست ختم ہو جائے گی

قوم پرست جماعتیں دیوبند مدارس اور مساجد میں اپنے یونٹ قائم کریں کیونکہ وہاں پنجابی اسٹبلشمنٹ کے یونٹ قائم ہیں

دیوبند مافیا اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور ترین مافیا بن چکی ہے انہیں مذہب اور ریاست کی بھی سپورٹ حاصل ہے

کراچی میں دیوبند مدارس کو بند کر دیں طالبان کی قوت آدھی رہ جائے گی

تقی عثمانی اور رفی عثمانی دہشتگردوں کے سرپرست ہیں اور انڈر ورلڈ دیوبند مافیا کے چیف ہیں

ملک میں قائم القاعدہ کے دفاتر اور مراکز : منصورہ لاہور ، ادارہ نور حق کراچی ، پنجاب یونیورسٹی ہوسٹل ،ایکس آرمی سروس مین ،دیوبند مدارس

ملک میں قائم طالبان کے دفاتر : تمام دیوبند مدارس ،دار العلوم حقانیہ ،دار العلوم کراچی ،جامعہ بنوریہ ،وفاق المدارس ،لال مسجد وغیرہ

دیوبندی مافیا کے ادارے

وفاق المدارس
سپاہ صحابہ
لشکر جنگوی
پاکستان علماء کونسل
دیوبند مدارس دیوبند مساجد
ٹرسٹ
امت اخبار
میڈیا
سیاسی جماعتوں میں مذہبی ونگز

……….

یہ مدرسہ تعلیم القران ہے
یہ نفرت کا فیضان ہے
دیوبند مافیا کا اڈا ہے
ہر ایک سے انکا پھڈا ہے

http://lubpak.com/archives/293699#sthash.uHopz6wa.dpuf

چیچہ وطنی سے دینی مدارس کے دو مہتمم گرفتار کر کے چار دستی بم برآمد کر لئے گئے۔ایک سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں نے نواحی گاؤں انچاس بارہ ایل میں چھاپہ مار کر ایک کالعدم تنظیم کے حافظ محمد جاوید کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے چار دستی بم بھی برآمد کر لئے۔ چیچہ وطنی ہی کے گاؤں تیرہ ،چودہ ایل میں بھی چھاپہ مار کر ایک دینی مدرسے کے مہتمم عبدالعزیز المعروف بگو کو حراست میں لے لیا گیا۔ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو میاں چنوں دھماکے کی تفتیش کے دوران گرفتار ہونے والے ملزموں کی نشاندہی پر پکڑا گیا۔

پنجاب کے مختلف دینی مدارس سے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے48غیرملکی غیر قانونی طلبہ کو گرفتارکرلیا‘مزید کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں 150کے قریب غیر ملکی طلبہ غیر قانونی طور پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کے بارے میں مکمل چھان بین کے بعد کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے

 

 

b2

deobandi

 

deobandi

 

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH