gototopgototop
We have 13 guests online

پاکستان

رہبر معظم انقلاب اسلامی عراق میں جنگ شیعہ اور سنی کے درمیان نہیں PDF Print E-mail
Written by alvi   
Sunday, 29 June 2014 12:01

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے آج صبح (بروزسنیچر) ہفتم تیر کے محترم شہیدوں کے اہل خانہ اور تہران کےبعض دیگر شہیدوں اور جانبازوں کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات میں  شہیدوں کے پیغام کے ادراک کے سلسلے میں ملک اور معاشرے کی ضرورت پر تاکید کی اور شہیدوں کے نورانی اور شاداب راستے پر قوم کی وفاداری کو تسلط پسند طاقتوں کی سازشوں کی مسلسل شکست کا مظہر قراردیا اور علاقائي واقعات منجملہ عراق کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عراق میں جاری جنگ در حقیقت مغربی ممالک طرفداروں ، دہشت گردوں کے حامیوں اور قوموں کے استقلال کے طرفداروں و دہشت گردوں کے مخالفین کے درمیان ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں رمضان المبارک  کی آمد کی طرف اشارہ کیا اور اس عظیم مہینے کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں توجہ ، اخلاص اور صفا و پاکیزگی کا مہینہ قراردیا اور تمام لوگوں کو سفارش کی کہ وہ اس مہینے کو غنیمت سمجھیں  اور اس میں اللہ تعالی کی رحمت اور بخشش طلب کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے 7 تیر سن 1360 ہجری شمسی کو تاریخی اور ناقابل فراموش دن قراردیتے ہوئے فرمایا: شہیدوں کو ہماری ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ان کے پیغام کو سننے ، ان کے اہداف کو پہچاننےاور ان کے سعادت بخش راستے پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےقرآن مجید کی آیات کی روشنی میں خوف ، حزن اور اندوہ سے دوری کو اسلامی معاشرے کے لئے شہیدوں کا بشارت پر مبنی پیغام قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں شہیدوں کے اس  نورانی پیغام کے ادراک کے ساتھ انقلاب کے اعلی اور نورانی اہداف کی سمت مزید شوق و نشاط کے ساتھ گامزن رہناچاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہیدوں اور جانبازوں کے معظم خاندانوں کے صبر، ہمراہی اور سرافرازی کی تعریف و تجلیل  کی اور ہفتم تیر کے واقعہ اور اس میں حضرت امام خمینی(رہ) اور انقلاب کےحامی درجنوں افراد منجملہ آیت اللہ بہشتی جیسے عظیم و بزرگ ،سیاسی، علمی اور فکری انسان کی شہادت کو  ایرانی قوم کی رفتار اور اس کے دشمنوں کی رفتار کو پہچاننے اور مطالعہ کا اہم معیار قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں فرمایا: ہفتم تیر کے بھیانک اور خوفناک واقعہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی ظالم و جابر ادارے ایرانی قوم کی منطق ، ثقافت اور فکر کے سامنے شکست و ناکامی اور کمزوری کا احساس کرتے تھے اور اس وحشیانہ جرم و جنایت کے علاوہ اس سرزمین کے 17 ہزار عوام اور حکام کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کی حمایت بھی کررہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہفتم تیر کو انسانی حقوق کے دعویداروں کی مکمل رسوائی قراردیتے ہوئے فرمایا: ہزاروں بے گناہ ایرانیوں کے قتل میں ملوث افراد اس دور سے لیکر آج تک مغربی ممالک کی آغوش میں ہیں اور اب بھی مغربی پارلیمانوں اور امریکی مراکز میں ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایک طرف انسانی حقوق کےمغربی دعویدار ایرانی قوم کے قاتلوں کے لئے اپنی آغوش پھیلائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران خود دہشت گردی کا شکار ہے اور مغرب ممالک کے دعوؤں کو پہچاننے اور پرکھنے کے لئےیہ بہت ہی اچھا معیار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سن 1366 ہجری شمسی میں تیر مہینے کی آٹھویں تاریخ کو سردشت شہر کے عوام پر صدام معدوم کی جانب سے کیمیاوی بمباری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سردشت اور اس سے قبل حلبچہ کے عوام پر کیمیاوی بمباری کے باوجود امریکہ اور یورپی ممالک صدام معدوم کی تائید اور اس کی حمایت کرتے رہے جب تک ان کے لئے صدام معدوم سے استفادہ کا امکان فراہم تھا اس وقت تک وہ صدام کے کسی قعل پر اعتراض نہیں کرتے تھے اور مغربی ممالک کے دعوؤں کی حقیقت کو پہچاننے کا یہ دوسرا معیار و ملاک ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے استقامت اور پائداری کے ساتھ اپنی منطق کودشمن کے سامنے کامیاب بنایا ہے اور آج ہر منصف مزاج انسان اسلامی جمہوریہ ایران  اورایرانی قوم کو مظلوم سمجھنے کے ساتھ مقتدر ، عزیز ، مستقل اور ترقی یافتہ سمجھتا ہے اللہ تعالی کے فضل و کرم اور شہیدوں کی راہ پر ایرانی عوام کی وفاداری کی برکت سے اس راہ پر حرکت مزید برق رفتاری کے ساتھ جاری رہےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمنوں کی حالیہ تین عشروں میں ہونے والی ناکامیوں کو  ایرانی قوم کی نسبت ان کے عناد اور دشمنی کے مزید اضافہ کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: سامراجی اور استعماری طاقتیں جو حضرت امام (رہ) ، انقلاب اور ایرانی قوم سے متنفر ہیں وہ ایرانی قوم کے خلاف اپنی سازشوں سے دستبردار ہونے والی نہیں ہیں اسی وجہ سے ایرانی قوم اور حکام کو بہت زيادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی واقعات و حوادث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں نے آج قوموں کے درمیان داخلی جنگیں شروع کرنے پر سرمایہ کاری کی ہے تاکہ وہ قوموں کو علاقائی اور مذہبی عناوین کے تحت ایکدوسرے کے ساتھ لڑا سکیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کے حوادث اور بعض دیگر ممالک کے واقعات کے بارے میں سامراجی طاقتوں کے پروپیگنڈے  کو شیعوں اور سنیوں کے درمیان جنگ چھیڑنے کی کوشش کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: عراق میں صدام معدوم کے باقی ماندہ منفور عناصر کے ساتھ مٹھی بھر جاہل، نادان ،بے شعور اور متعصب افراد بھیانک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں اور دشمن اس کو شیعہ اور سنی جنگ قراردے رہے ہیں لیکن یہ ان کی صرف ایک آرزو ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عراق میں شیعہ اور سنی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ جنگ دہشت گردوں اور ان کے مخالفین کے درمیان ہے عراق میں جنگ در حقیقت امریکہ اور مغربی ممالک کے حامی دہشت گردوں اور قوموں کے استقلال کے طرفداروں کے درمیان جنگ ہے عراقی کی جنگ انسانیت کے طرفداروں اور مغرب کے وحشی اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کے واقعات کی دوسرے اسلامی ممالک میں تکرار کے سلسلے میں دشمنوں کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقائي قوموں کو چاہیے کہ وہ دشمنوں کی ان حرکتوں کو زیر نظر رکھیں  اور مسلمان قوموں کو جان لینا چاہیے کہ دشمن ان کے استقلال ،عزت اور عظمت کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری اور اسلامی تحریک کی لہر سے نجات پانے کو دشمن کی طرف سے شیعہ و سنی جنگ چھیڑنے کا اصلی مقصد قراردیا اور دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کی بنیادی راہوں کی تشریح کے سلسلے میں اسلامی جمہوری نظام  کو شفا بخش اور بے نظیر نسخہ قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران کی دلیر، عزیز اور شجاع قوم  نے دشمنوں کی اب تک کی تمام سازشوں کو اتحاد ، بصیرت اور ہوشیاری کے ساتھ ناکام بنادیا ہے اور بیشک آئندہ بھی وہ دشمن کی تمام سازشوں اور حملوں کو ناکام بنا دےگی اور سرانجام اسلامی بیداری کے مقابلے میں دشمن محاذ کی شکست یقینی ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے اختتام میں ملک کے عوام، دانشوروں، حکام، ہنرمندوں، مصنفین اور طلباء کو انقلاب اسلامی کے گرانقدر شہیدوں کی میراث کی حفاظت کے سلسلے میں تاکید کی اور شہیدوں کی عظمت کے سامنے ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سفارش کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی  کے خطاب سے قبل شہید اور جانباز فاؤنڈیشن میں ولی فقیہ کے نمائندے اور سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین شہیدی محلاتی نے اسلامی انقلاب کی مضبوطی اور پائداری کا اصلی رکن ایثار، جہاد اور شہادت کو قراردیا اور شہید و جانباز فاؤنڈیشن میں ثقافتی ترجیحات کے پروگراموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایثار و شہادت ثقافت کی ترویج کے لئے اعلی کونسل کی تشکیل، سپاس منصوبہ کے عنوان سے جانبازوں کی توانائیوں اور صلاحیتوں کی قدردانی اور ملک کے دوسرے اجرئی اداروں کے ساتھ تعاون اور گفتگو شہید و جانباز فاؤنڈیشن کے اہم پروگراموں میں شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں موجود جانبازوں کے ساتھ نوازش اور محبت کا اظہار کیا۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH