gototopgototop
We have 13 guests online

پاکستان

قرآن کریم سے انس، اندرونی استحکام کا باعث: رہبر معظم PDF Print E-mail
Written by alvi   
Monday, 30 June 2014 18:47

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ اسلامی معاشرہ قرآن کریم سے روز افزوں انس کے نتیجے میں اندرونی استحکام حاصل کرتا ہے اور جس چیز سے قوموں کو آگے بڑھنے اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت ملتی ہے یہی اندرونی استحکام ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ  العظمی سید علی خامنہ ای نے گذشتہ روز پہلی رمضان المبارک، ماہ رحمت و ضیافت الھی اور بہار قرآن میں قرآن کے حفاظ، اساتذہ اور قرآنی امور میں مشغول افراد سے ملاقات کی ۔ آپ نے اس موقع پر فرمایا کہ معاشرے کو قرآن فہمی کی طرف بڑھانا اور اسے قرآن سے انس دلانا نہایت اہم اور اسٹراٹیجیک کام ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس طرح سے منصوبہ بندی کی جائے کہ قوم کا ہر فرد قرآن کے مفاہیم اور معانی سے مانوس ہوجائے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایمان کی تقویت، خدا پر توکل اور خدا کے وعدوں پر اعتماد نیز مادی مسائل سے خوفزدہ نہ ہونا قرآن کریم سے انس کے برکات و فوائد ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں تدبر امت اسلامی کو خرافات و گمراہی کی ظلمات، ڈر اور توھمات کی ظلمات سے نکال کر پروردگار کی معرفت کی طرف ھدایت کرسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ امر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کےلئے امت اسلامی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امت اسلامی کی بڑھتی ہوئي بصیرت و آگہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمنان اسلام اسی بات سے خوفزدہ ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور اسلام کے نام پر اسلام کا مقابلہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت امام خمینی قدس سرہ نے اسلام ناب محمدی کے مقابل امریکی اسلام کی حکیمانہ تعبیر استعمال کی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ امریکی اسلام گرچہ ظاہری طور پر اور نام سے اسلام ہے لیکن وہ طاغوت اور صیہونیوں کے ساتھ ساز باز کرلیتا ہے مستکبرین کی ولایت قبول کرلیتا ہے اور مکمل طرح سے طاغوت اور امریکہ کے اھداف کے لئے کام کرتا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایسے واضح اور آشکار ثبوت وشواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہےکہ بعض اسلامی ملکوں جیسے عراق میں دشمن کی خبیث جاسوس ایجنسیاں ملوث ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ امت اسلامی کا قرآنی معارف سے آشنا ہونے کی وجہ سے اس طرح کے واقعات اور قرآنی تعلیمات سے خیانت کا سد باب کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خادمین قرآن کو بھر پور طرح سے دینی احکام و ضوابط کا پابندی ہونا چاہیے اور انہیں جوانوں کے لئے نمونہ عمل ہونا چاہیے۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH