gototopgototop
We have 17 guests online

پاکستان

گولی چلانے کا حکم میں نے نہیں دیا، رانا ثناء اللہ کا جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان
Written by rizvi   
Tuesday, 01 July 2014 13:28

سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ، ڈاکٹر توقیر شاہ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی سمیت تمام افسران نے جوڈیشل کمیشن میں اپنے بیانات قلمبند کرا دیئے۔ پولیس نے فائرنگ کس کے حکم پر کی؟، کوئی بھی واضح نہیں کر سکا۔ جوڈیشل ٹریبونل نے کارروائی کا آغاز کیا تو رانا ثنا اللہ نے بیان حلفی جمع کرواتے ہوئے کہا کہ مولانا طاہر القادری کے لانگ مارچ، امن وامان کے حوالے سے اجلاس میں کمشنر نے رپورٹ دی کہ منہاج القرآن کے اردگرد سیکیورٹی بیرئیر سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، جس پر کمشنر کے موقف پر انھیں ہٹانے کا حکم دیا۔ تاہم آپریشن کے دوران وہاں لوگوں نے مزاحمت کی، جس سے حالات خراب ہو گئے، لیکن گولی چلانے کا حکم نہیں دیا تھا، جبکہ سی سی پی او لاہور سے رابطہ کے دوران انہوں نے بتایا کہ بیرئیر ہٹا کر صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر توقیر شاہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے فوری طور پر پولیس کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا مگر بعد میں میڈیا کی ذریعے پتہ چلا کہ گولی چلی جس سے لوگ جاں بحق ہوئے۔ وزیر اعلی نے صورتحال پر بروقت آگاہ نہ کرنے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ ہوم سیکرٹری اور کمشنر کی جانب سے بھی اپنی رپورٹس جمع کروائی گئیں۔ سابق سی سی پی او لاہور نے ان کیمرہ بریفنگ دینے کی استدعا کی جسے منظور کر لیا گیا۔

دوران سماعت وکلا کی جانب سے جوڈیشل کمیشن پر اعتراضات اٹھائے گئے تو جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ موجودہ سسٹم پر سوالیہ نشان لگانا اور ٹربیونل کے سامنے پیش نہ ہونا منہاج القرآن انتظامیہ کا حق ہے۔ ٹربیونل کا کام سزا یا معطل کرنا نہیں، ٹربیونل با اختیار ہے۔ کارروائی کے بعد سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو لیگی کارکنوں اور وکلا کی بڑی تعداد کے باعث بدنظمی ہوئی اور دھکم پیل کی وجہ سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت کے باہر رکھے گملے ٹوٹ گئے اور مشینری کو نقصان پہنچا۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH