gototopgototop
We have 2 guests online

پاکستان

شیخ الازہر: شیعہ مسلمان ہیں/ کسی سنی کے شیعہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں PDF Print E-mail
User Rating: / 5
PoorBest 
Written by shiacenter   
Monday, 07 April 2014 18:05

شیخ الازہر ڈاکٹر شیخ احمد الطیب نے مصر کے النیل چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: کہ شیعہ مسلمان ہیں اور وہابیوں کے فتوے معتبر نہیں ہیں۔
تفصیل سے پڑھئے:
کیا آپ کی رائے میں شیعہ عقائد میں کوئی مشکل نہیں ہے؟
شیخ الازہر: نہیں، کیا مشکل ہے ان کے عقائد میں، پچاس سال قبل شیخ محمود شلتوت نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ مذہب اسلام کا پانچواں مذہب اور دوسرے مذاہب کی مانند ہے۔
ہمارے بچے شیعہ ہورہے ہيں، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
شیخ الازہر: اچھا تو شیعہ ہونے دو، کیا اگر کوئی حنفی یا مالکی مذہب سے چلا جائے، ہم اس پر کوئی اعتراض کرتے ہیں؟ یہ لوگ بھی چوتھے مذہب سے پانچویں مذہب ميں چلے گئے ہیں، جانے دو!
شیعہ ہمارے ساتھ رشتہ دار بن رہے ہیں اور ہمارے بچوں بچیوں کے ساتھ شادی بیاہ کررہے ہیں۔
شیخ الازہر: اس میں کیا حرج ہے، مذاہب کے درمیان شادی بیاہ کی اجازت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اہل تشیع کا قرآن الگ ہے۔!!!
شیخ الازہر: یہ بوڑھی عورتوں کے خرافات و توہمات ہیں۔ شیعوں کے قرآن اور ہمارے قرآن میں کسی قسم کا کوئی فرق نہيں ہے اور حتی کہ ان کے قرآن کا رسم الخط بھی ہمارے رسم الخط کی مانند ہے۔
ایک ملک (سعودی عرب) کے 23 علماء نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ کافر ہیں، رافضی ہیں!
شیخ الازہر: مسلمانان عالم کے لئے صرف الازہر فتوی دے سکتا ہے اور ان کا فتوی غیر معتبر ہے۔
تو پھر یہ جو اختلاف شیعہ اور سنی کے درمیان اچھالا جاتا ہے، یہ کیا ہے؟
شیخ الازہر: یہ اختلافات بیرونی طاقتوں کی پالیسی ہے جو شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔
میرا ایک سوال بہت سنجیدہ ہے وہ یہ کہ شیعہ ابوبکر اور عمر کو قبول نہيں کرتے، آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں؟
شیخ الازہر: ہاں وہ انہیں قبول نہیں کرتے لیکن کیا ابوبکر اور عمر پر عقیدہ رکھنا دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے؟ ابوبکر اور عمر کا قصہ ایک تاریخی قصہ ہے اور تاریخ کا اصول عقائد سے کوئی تعلق نہيں ہے۔
اینکر جو اس جواب سے حیرت زدہ ہوگیا تھا، پوچھتا ہے
شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ 1000 سال سے اب تک زندہ ہیں
شیخ الازہر: ممکن ہے کہ وہ زندہ ہوں، کیوں ممکن نہ ہو؟ لیکن کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمارا عقیدہ بھی ان ہی کی طرح ہو۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک آٹھ سالہ بچہ امام ہو؟ (امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کی طرف اشارہ) شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے ایک امام آٹھ سال کی عمر میں امام بن گئے تھے؟
شیخ الازہر: ایک طفل گہوارے میں نبی ہوسکتا ہے تو اگر ایک آٹھ سالہ بچہ امام ہوجائے تو یہ عجیب نہيں ہے، گوکہ ممکن ہے کہ ہم سنی کی حیثیت سے ان کا یہ عقیدہ قبول نہ کریں؛ بہرحال اس عقیدے سے اس کے اسلام (مسلمان ہونے) کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا؛ اور وہ مسلمان ہیں

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH