gototopgototop
We have 29 guests online

پاکستان

امام زمانہ (عج) کا دارالحکومت کوفہ کيوں؟ PDF Print E-mail
Written by shiacenter   
Friday, 13 June 2014 16:16

امام زمانہ (عج) کا دارالحکومت (حصہ اول

اگر ہم اس روايت کو اسي زمانے سے مخصوص قرار ديں تو بھي نتيجہ يہ ہے کہ ايک خاص زمانے کي بےوفائي کي بنا پر اس شہر کے لوگ ابد تک بےوفا ہي ہوں؛ بلکہ امام صادق (ع) کے زمانے ميں ـ جو وقت کے لحاظ سے بےوفائي کے ايام سے قريب تر تھا ـ امام (ع) نے کوفہ اور اہل کوفہ کي تعريف کي ہے-

امام صادق (ع) نے فرمايا

"ہماري ولايت تمام شہروں کے سامنے پيش کي گئي اور کوفہ کے سوا کسي شہر نے اسے قبول نہ کيا"- (2)

پس کسي خاص زمانے ميں کسي خاص گروہ کي بےوفائي کا يہ مطلب نہيں ہے کہ اس شہر کے لوگ ہميشہ کے لئے بےوفا ہونگے-

3- کوفہ ايک مقدس مقام ہے اور شايد اسي تقدس کے لحاظ سے خداوند متعال نے اس شہر کو عالم کے واحد نجات دہندہ کي حکومت کا دارالحکومت قرار ديا ہے- اور اللہ کا يہ ارادہ بعض دوسري مصلحتوں پر استوار ہو جن کا علم صرف خدا کے پاس ہے اور ان مصلحتوں کا اس شہر کے لوگوں سے کوئي تعلق نہيں ہے-

کئي احاديث و روايات شہر کوفہ کے تقدس پر دلالت کرتي ہيں:

امام صادق (ع) نے فرمايا

"کوفہ جنت کے باغوں ميں سے ايک باغت ہے جس ميں نوح و ابراہيم اور سيدالاوصياء حضرت امير المۆمنين (عليہم السلام) کي قبور واقع ہوئي ہيں"- (3)

"کوفہ ميں ايک درہم کي خيرات دوسرے شہروں ميں 100 درہم خيرات کے برابر ہے اور کوفہ ميں دو رکعت نماز 100 رکعتوں کے برابر ہے"- (4)

4- امام مہدي (عج) کي حکومت عالمي حکومت ہے اور جب وہ کوفہ کو اپني حکومت کا مرکز اور دارالحکومت قرار ديں گے، تو اس کا تعلق صرف کوفيوں سے نہ ہوگا بلکہ امام (عج) کي حکومت کا مرکز پوري دنيا ميں قائم حکومت کا دارالحکومت ہوگا-

"خداوند متعال نے سرزمينوں ميں سے چار کو پسند فرمايا:

{وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ * وَطُورِ سِينِينَ * وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ}- (5)

"تين" مدينہ ہے، "زيتون" بيت المقدس ہے، "طور سينين" کوفہ ہے اور تين مدينه است و زيتون بيت المقدس، طور سنين كوفه و "بلد الامين" مکہ ہے- (6) (ختم شد)

حوالہ جات:

2- بصائر الدرجات ص 96-

3- بحوالہ فرحة الغري ـ سيد ابن طاۆس ـ ص 98-

4- كامل الزيارات- باب هشتم فضيلت نماز خواندن در مسجد كوفه - ح 2-

5- سورہ تين (95) آيات 1 تا 3-

6- سفينة البحار، ج 7، ص 543 ـ تفسير الاصفي ج 2 الفيض الكاشاني ص 1457- خصال شيخ صدوق ص 225

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH