gototopgototop
We have 4 guests online

پاکستان

ظھور کی 5 حتمی علامات PDF Print E-mail
Written by shiacenter   
Tuesday, 17 June 2014 01:03

امام مھدی عج کےظھور کی علامات

حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عج کے ظہور کی علامات ایک جذاب ترین اور پیچیدہ ترین مباحث میں شمار ہوتی ہیں کہ جوباعث بنی تا کہ مصنفین اس موضوع پر لکھیں اور مختلف مطالب کوزیر بحث لائیں کیونکہ انتظار فطری مباحث میں سے ہے کہ انسان اسکے بارے میں ایک خاص حساسیت رکھتاہے اور چاہتا ہے کہ جانے کہ کونسی علامات محقق ہوچکی ہیں اور کونسی بہت جلد انجام پذیر ہونے والی ہیں ،کونسی علامات حتمی ہیں اور کونسی غیر حتمی ہیں اس قسم کے سوالات خود پیامبر اکرم (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور آئمہ علیھم السلام کے سامنے مظرح ہوتے اور بہت سی روایات میں ان کو بیان کیا گیاہے کہ جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں

ظھور کی حتمی علامات

ظھور کی حتمی علامات وہ علامات ہیں جوبغیر کسی قید وشرط کے اپنے مقررہ وقت میں یقینی طور پر ظاہر ہونگی جن میں ( بداء) نہیں ہےیہاں تک کہ اگر وہ علامات ظاہر نہیں ہونگی امام زمانہ عج کا ظہور نہیں ہوگا بہت سی روایات میں حتمی علامات بیان کی گئی ہیں مثلا امام معصوم علیہ السلام ان لوگوں کی بات کوپہلے رد فرماتے ہیں کی جو امام زمانہ عج کے ظہور کے وقت کومعین کرتے تھے اور بعد میں خود ان حتمی علامات کوبیان فرماتے ہیں جیسے یہ روایت کہ :

عن علی بن ابی حمزۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال :قلت لہ :

جعلت فداک متی خروج القائم علیہ السلام ؟فقال علیہ السلام

یا ابا محمد انا اھل البیت لانوقت وقد قال محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم :کذب الوقاتون ،، یا اب محمد ان قدام ھذاالامر خمس علات :

اولاھن النداء فی شھر رمضان وخروج السفیانی وخروج الخراسانی وقتل النفس الزکیۃ وخسف بالبیداء

ثم قال یا ابا محمد انہ لابد ان یکون قدام ذلک الطاعونان ؛الطاعون الابیض والطاعون الاحمر قلت :جعلت فداک وای شی ء ھما ؟

فقال علیہ السلام :اما الطاعون الابیض فالموت الفارف واما الطاعون الاحمر ،فالسیف ولا یخرج القائم حتی ینادی باسمہ من جوف السماء فی لیلۃ ثلاث وعشرین فی شھر رمضان لیلۃ جمعۃ قلت :بم ینادی ؟قال علیہ السلام :باسمہ واسم ابیہ ؛الا ان فلان بن فلان قائم آل محمد فاسمعوا لہ واطیعوہ فلا یبقی شیء خلق اللہ فیہ الروح الا یسمع الصیحۃ فنوقظ النائم ویخرج الی صحن دارہ وتخرج العذراء من خدرھا ویخرج القائم مما یسمع وھی صیحۃ جبرئیل علیہ السلام (نعمانی ،کتاب الغیبۃ ،باب ۱۲ ص۲۸۹ ۔۔۲۹۰ ح۶)

علی بن ابی حمزہ (بطائنی ) نےابوبصیر سے نقل کیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ مولا آپ پر قربان جاوں حضرت قائم عج کا ظھور کب ہوگا ؟امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اے ابا محمد ہم خاندان اھل بیت بقیۃ اللہ کے ظھور کے زمانےکومشخص اور معین نہیں کرتے یاد رکھو کہ پیامبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :جھوٹ بولتے ہیں کہ جو ظھور کے وقت کومعین کرتے ہیں ) پھر فرمایا کہ آئے ابا محمد یادرکھو کہ( حضرت مھدی عج )کے ظھور سے پہلے پانچ علامات ظاہر ہونگی

الف: ماہ رمضان میں آسمانی نداء کا آنا

ب :سفیانی کا خروج

ج: مرد خراسانی کا خروج

د: نفس زکیۃ کی شھادت

ھ: بیابان میں زمین کا دھنس جانا

پھر فرمایا کہ آئے ابامحمد ان علامات سے پہلے لوگ دو قسم کی طاعون کی بیماری کا شکار ہونگے سفید طاعون اور سرخ طاعون

ابوبصیر کہتاہے کہ میں عرض کیا کہ ان دوقسم کے طاعون سے کیا مراد ہے ؟

توآپ علیہ السلام نے فرمایا کہ سفیدطاعون سے مراد لوگوں کی گروہوں کی صورت میں موت ہے جوتباہی وبربادی کا سبب بنے گی اور سرخ طاعون سے مراد وہ اموات ہیں جواسلحہ (جیسے ایٹمی بمب ،کیمیائی ہتھیاروں )سے وقوع پذیر ہونگی

پھر فرمایا کہ ہمارا قائم اس وقت تک ظھور نہیں کرے گا یہاں تک کہ آسمان کے درمیان سے اس کانام لے کراسے نداء نہ دی جائے گی اور یہ نداء تیئیس ماہ مبارک رمضان جمعہ کی رات ہوگی

ابوبصیر کہتاہے کہ میں نے عرض کی کس نام مبارک کے ساتھ ان کونداء دی جائے گی ؟

توامام علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کوان کےنام اور ان کے والد گرامی کے نام کے ساتھ یوں صداء دی جائے گی کہ( آگاہ رہو کہ فلاں بن فلاں قائم آل محمد علیھم السلام ہیں انہوں نے ظھور کردیاہے پس ان کی بات کوسنو اور ان کے حکم کی اطاعت کرو )

پس کوئی مخلوق خدانہیں ہوگی کہ جس کے اندر روح ہومگر یہ کہ اس صداء کوسنے گی جوسوئے ہوئے ہونگے جاگ جائیں گے اور اپنے گھروں کے صحنوں میں نکل آئیں گے دوشیزہ لڑکی پردے سے باہر آجائے گی اور حضرت مھدی عج اس وقت ظھور فرمائیں گے اور وہ آواز اور صداء جبرائیل کی ہوگی

آخرمیں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آواز اور آسمانی نداء جبرائیل کریں گے

۲:عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال :خمس قبل قیام القائم علیہ السلام :الیمانی والسفیانی والمنادی ینادی من السماء وخسف بالبیداء وقتل النفس الزکیۃ (طبرسی ،کتاب اعلام الوری ص۴۵۵ ،منتخب الاثر ص۵۴۴ )

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ قائم آل محمد کے ظھور سے پہلے پانچ حادثے رونماء ہونگے یمن کے لوگوں میں سے ایک انقلابی مرد کی تحریک ،سفیانی کا خروج ،آسمانی فریاد کہ جو ہر جگہ سنی جائے گی بیداء میں زمین کا دھنس جانا اور پاک دامن انسان کا قتل

۳:عبداللہ بن سنان عن ابی عبداللہ علیہ السلام :انہ قال :النداء من المحتوم والسفیانی من المحتوم والیمانی من المحتوم وقتل النفس الزکیۃ من المحتوم وکف یطلع من السماء من المحتوم ' قال علیہ السلام :وفزعۃ فی شھر رمضان توقظ النائم وتفزع الیقظان وتخرج الفتاۃ من خدرھا(غیبت نعمانی ،ص۲۵۲ ح۱۱ ،ص ۲۵۲ ح۹ )

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ چھ علامات ایسی ہیں کہ حضرت مھدی علیہ السلام کے ظھور سے پہلے حتما وقوع پذیر ہونگی :اسمانی فریاد ،سفیانی کا خروج ،یمنی مرد کی تحریک ،پاک دامن انسان کا قتل ، آسمان سے ہاتھ کی ہتھیلی کا ظاہر ہونا اور یہ بھی فرمایا کہ ماہ مبارک رمضان میں لوگوں پر ایک وحشت طاری ہوگی جوسوئے ہوئے انسان کوبیدار کردے گی اور ہر جاگتے ہوئے انسان کو ڈرا دے گی جوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں گی

۴:عمر بن حنظلۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام انہ قال :للقائم خمس علامات :ظھور السفیانی والیمانی والصیحۃ من السماء وقتل النفس والخسف بالبیداء (غیبت نعمانی ص۲۵۲ )

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ قائم آل محمد کے ظھور کی پانچ نشانیاں ہیں سفیانی کا خروج ،یمنی مرد کی تحریک ،آسمانی فریاد ،پاک دامن شخص کا قتل اور بیابان زمین کا دھنس جانا

۵محمد بن ابی عمیر عن عمر بن حنظلۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال :قبل قیام القائم خمس علامات محتومات :الیمانی والسفیانی والصیحۃ وقتل النفس الزکیۃ والخسف بالبیداء (کمال الدین وتمام النعمۃ ج۲ ص۶۵۰ ح۵۷ )

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ قائم آل محمد کے ظھور کی پانچ نشانیاں ہیں سفیانی کا خروج ،یمنی مرد کی تحریک ،آسمانی فریاد ،پاک دامن شخص کا قتل اور بیابان زمین کا دھنس جانا۔

ان روایات میں پانچ ایسی چیزیں ہیں جوتمام روایات میں مشترک ہیں

(۱)مردیمنی کی انقلابی تحریک

(۲)سفیانی کا خروج

(۳)آسمانی فریاد

(۴)بیابان میں زمین کا دھنس جانا

(۵)پاک دامن شخص کا قتل

ظہورکے بارے ميں حتمي نشانياں

بہت ساري روايات ميں جوکچھ بيان ہواہے جب ان کاجائزہ ليتے ہيں توحتمي علامات پانچ بنتي ہيں۔حضرت امام جعفرصادق(عليہ السلام)فرماتے ہيں کہ پانچ نشانياں قائم ٴ کے قيام سے پہلے ہيں ۔
١۔يماني کاخروج ٢۔سفياني کاخروج۔ ٣۔آسماني نداء
٤۔مدينہ اور مکہ کے درميان ،بيداء نامي زمين کادھنس جانا ٥۔نفس زکيہ کاقتل ہونا
ظہورکے سال کے واقعات اورحالات بہت زيادہ ہيں ،ہم ان واقعات ميں سے جوبہت ہي واضح ہيںاوروقوع کے زمانہ کے قريب ہيں، اس بارے روايات سے جوکچھ سمجھاجاسکتاہے اس کوسامنے رکھ کربعض علامات اورنشانات کي طرف اشارہ کرتے ہيں? اصل بحث شروع کرنے سے پہلے ان حالات اور واقعات جن کي طرف اجمالي اشارہ ہو چکا ہے جوکلي اورعمومي طورپرظہورکے سال پر اور اس سال کي خصوصيات پردلالت کرتي ہيں? ان کاجائزہ ليتے ہيں ۔
١۔ظہور کے سال کا طاق ہونا
حضرت امام جعفرصادق(عليہ السلام)سے روايت ہے کہ حضرت قائم آل محمد۰ طاق سال ميں ظہورکريں گے( ١،٣،٥،٧،٩)کاعددہوسکتاہے ۔
(
اعلام الوري ص٤٣٠،بحارالانوارج٢ص٢٩١ منخب الاثرص٤٦٤)
يہ حديث ظہورکے سال کو اجمالي طورپربيان کررہي ہے ليکن کچھ روايات اور ہيں جو ظہور کے سال کواس سے زيادہ مشخص اورواضح کرکے بيان کررہي ہيں۔
ابوبصير۱نے حضرت امام جعفرصادق (عليہ السلام)سے روايت بيان کي ہے کہ آپ ٴ نے فرمايا’’حضرت قائم ٴ عاشوراکے دن قيام فرمائيں گے اوريہ وہ دن ہے جب حضرت امام حسين(عليہ السلام) بن علي(عليہ السلام) کوقتل کياگيا?گوياميں ديکھ رہاہوں کہ وہ دن ہفتہ کا ہے اورمحرم الحرم کا عاشوراہے، آپ ٴ رکن اورمقام کے درميان کھڑے ہيں، جبرائيل ٴ آپ ٴ کے سامنے بيعت کے لئے آوازدے رہے ہوں گے، آپ ٴ کے شيعہ جوزمين کے اطراف ميں پھيلے ہوں گے وہ سب کے سب ہرطرف سے کھنچ کرآپ ٴ کے گردجمع ہوجائيں گے، آپ ٴ کے ہاتھ پربيعت کريں گے پس اللہ تعاليٰ زمين کو آپ ٴ کے وسيلہ سے عدالت اور انصاف کے ساتھ اس طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکي ہوگي ‘‘۔(الارشاد ج٢ص٣٧٩،اعلام الصرري ص٤٣٠)
يہ روايات اوراس قسم کي دوسري روايات جوہميںيہ بتا رہي ہيں کہ جس سال انشائ اللہ ظہور پرنورہوگااس سال کي خصوصيات کوہم ان روايات کي روشني ميں بيان کرسکتے ہيں ، ہم اس سال کوعدوي لحاظ سے اور اسلامي کيلنڈرکے اعتبارکوسامنے رکھ کربيان کرسکتے ہيں اور وہ کچھ اس طرح ہے ۔
آپ ٴ کے ظہورکاسال طاق ہوگا،آخري آفتاب امامت کاطلوع ہفتہ کے دن ہوگا (يا جمعہ کے دن ہوگا)محرم الحرام کي دس تاريخ ہوگي ،اوراس سال روز عاشورا ہفتہ کادن ہو گا يا جمعہ کا دن ہوگا۔
اس سال بارشيں بہت زيادہ ہوں گي
ظہورکے سال کي نشانيوں سے ايک يہ ہے کہ اس سال بارشيں بہت زيادہ ہوں گي ان بارشوں کے نتيجہ ميں محصولات ،ميوہ جات ،کھجوريں، خراب ہوجائيں گي کيونکہ بارش بعض اوقات رحمت کاوسيلہ ہے اوربعض اوقات عذاب اور بدبختي کاسبب بن جاتي ہے۔
حضرت امام جعفرصادق(عليہ السلام)فرماتے ہيں
حضرت قائم(عليہ السلام) کے ظہورسے پہلے بہت زيادہ بارشيں ہوں گي، ان بارشوں سے پھل ،ميوہ جات ،محصولات ،درختوں پرلگي ہوئي کھجوريں خراب اورفاسد ہو جائيں گي آپ لوگ اس واقعہ کے رونماہونے کے بارے ميں شک مت کرنا۔
سعيدبن جبيرنے اس طرح نقل کيا ہے جس سال ميں حضرت قائم ٴقيام فرمائيں گے زمين پر٢٥بارشيں برسيں گي کہ تم ان بارشوں کے اثرات اوربرکات کامشاہدہ کروگے۔
اوراس بنيادپراس جيسي احاديث کے معاني کوسمجھ سکتے ہيں کہ نمونہ کے طورپرحضرت امام جعفر صادق (عليہ السلام)سے ايک اور روايت ملاحظہ ہو۔
’’
کاميابي اورفتح کے دن دريائے فرات امڈپڑے گا،اس کاپاني کوفہ کي گلي کوچوں ميں داخل ہوجائے گا‘‘۔
ان روايات سے يہ بات بڑي واضح ہے کہ حضرت قائم ٴ نے جس سال خروج فرمانا ہے اس سال بارشيں بہت ہوں گي، فرات ميں بڑاسيلاب آئے گا۔
ظہورکي سرزمين
آپ ان علامات ميں ايک بات مشترک پائيں گے کہ حضرت ٴکے قيام سے قبل اور آپ ٴ کے قيام کرنے والے سال ميں جن حالات اور واقعات کاتذکرہ ہے ان کاتعلق اور ان کے وقوع کي جگہ، سرزمين عرب ہے اوريہ شايداس لئے ہے کہ آپ ٴ کاظہورپرنورمکہ ميں ہوگا اور پھر آپ ٴکے انقلاب کاآغازبھي اسي جگہ سے ہوناہے اورعراق کويہ خصوصيت حاصل ہے کہ فرات کے کنارے کوفہ ونجف وکربلاہي میں آپ کي مرکزي حکومت قائم ہوگي، آپ کي آمد سے قبل جن ممالک ميں حالات نے دگرگوں ہوناہے ان ميں شام،مصر،لبنان ، حجاز مقدس ، عراق،يمن مجموعي طور پرجزيرۃ العرب اورايران،طالقان،فزوين ، شيراز، مسجد سلمان ، اصطخر،قم المقدسہ وخراسان کا خصوصي ذکرہے، البتہ عمومي نشانيوں ميں پوري دنياکے حالات کاذکرہے ،اس دور کي مادي ترقي ، اس دورکے انسانوں کے حالات ،جنگيں ، بيمارياں،قحط ،بدامني ،بے آرامي،بے چيني ?ان سب کاتذکرہ موجودہے، البتہ ظہورکے سال اور اس کے قريب قريب کے واقعات وحالات کا تعلق مرکزاسلام سے ہے ان روايات ميں اس جگہ اورعلاقہ، خطہ کے بارے ميںذکرہے جہاں پر آپ ٴ کاظہورہوناہے، جہاں سے آپ ٴ کاعالمي انقلاب شروع ہوگاجس علاقے ميں آپ کي حکومت کا ہيڈ کوارٹر ہوگا،پھران واقعات ميں مخاطب خودمسلمان اورشيعہ حضرات ہيںاور يہ وہ لوگ ہيں جواپنے زمانہ کے امام ٴ کي انتظار ميں ہيں،اور براہِ راست يہي لوگ مخاطبين سے ہيں، اسلئے ان کے اردگردکے ماحول ميں جوکچھ ہوناہے اس کا حوالہ ان روايات ميں ملتا ہے ۔
٣۔زمين پرزلزلوں ،عمومي پريشانيوں،اورفتنوں کاسال
حضرت امام صادق ٴفرماتے ہيں کہ ’’آپ ٴ کے ظہورکي علامات سے ہے کہ آپ ٴ نے جس سال ظہور فرماناہے اس سال زلزلے بہت زيادہ ہوں گے ،سردي بہت پڑے گي۔
آپ نے فرمايا’’ميں آپ کوحضرت مہدي(عليہ السلام) کي آمدکے بارے ميںبشارت ديتاہوں کہ اس سال لوگوں ميں اختلافات بہت زيادہ ہو ںگے ،زلزلے ہوں گے، آپ ٴ کے ظہورسے پہلے ايساقتل وفسادہوگاجورکے گا نہيں ?يعني حضرت مہدي ٴ کي آمدپرہي يہ قتل وغارت گري وفتنہ وفسادکاسلسلہ رکے گا‘‘۔
(
يوم الخلاص ص٥٤٣بيان الائمہ ج٢ص٤٣١،الممہدون للمہدي ص٤٩،کمال الدين ص ٦٥٥ ،بحارالانوارج٥٢ص١٧٢)
حضرت قائمٴ سے پہلے دو طرح کي اموات
٭ايک سرخ موت ہوگي ٭ايک سفيدموت ہوگي
اس طرح سے کہ ہرسات افرادسے پانچ مرجائيں گے ۔
(
يوم الخلاص ص٥٤٣بيان الائمہ ج٢ص٤٣١،الممہدون للمہدي ص٤٩،کمال الدين ص٦٥٥ ،بحارالانوارج٥٢ص١٧٢)
حضرت علي(عليہ السلام) نے فرمايا’’حضرت مہدي(عليہ السلام)سے پہلے سرخ اورسفيدموت ہوگي، مکڑيوں کاحملہ ہوگا،اوريہ خون کے رنگوں کي مانندہوں گي، سرخ موت جنگ کے نتيجہ ميں ہوگي، سفيدموت بيماري طاعون (کينسر)کے نتيجہ ميں ہوگي ‘‘۔
(
الغيبۃ النعماني ص١٨٥،الارشادج٣ص٣٧٢)،الغيبۃ شيخ الطوسي ص٢٦٧)
ماہ ِ صفر سے ماہ ِ صفرتک جنگ
عبداللہ۱ بن يسارنے بھي حضرت اميرالمومنين(عليہ السلام)سے نقل کياہے کہ آپ ٴ نے فرمايا ’’جس وقت اللہ تعاليٰ قائم آل محمد۰ کے ظہورکاارادہ فرمائے گاتوماہ صفرسے جنگ کا آغاز ہوگا جو اگلے سال کے ماہ صفرتک رہے گي اور وہي ہمارے قائم کے خروج کازمانہ ہو گا ‘‘ ۔ (بيان الائمہ ج١ص٣٣٥)
بھوک اور خوف کے ذريعہ آزمائش
جابرجعفي۲ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت امام محمدباقر(عليہ السلام) سے اس آيت کے بارے سوال کياکہ ’’ولنبلونکم بشئي من الخوف والجوع‘‘(سورئہ بقرہ آيت ١٥٥) ’’اورہم تمہيں ضرور آزمائيں گے کچھ خوف سے اورکچھ بھوک سے‘‘توآپ ٴ نے جواب ميں فرمايا’’اے جابر۱! يہ خوف اور بھوک دوطرح کي ہے
٭خاص ٭عام
خاص قسم کاخوف اوربھوک توکوفہ ميں رونماہوگي اوريہ آل محمد۰کے دشمنوں کے واسطے ہوگي اور اللہ تعاليٰ اس کے ذريعہ ان کوہلاک کرے گا۔
عمومي بھوک اورخوف شام ميں ہوگا،ايساخوف ان پرمسلط ہوگااورايسي بھوک کا انہيںسامناہو گاکہ اس کي مثال پہلے موجود نہ ہوگي ?بھوک توحضرت قائم ٴ کے قيام سے پہلے ہوگي اور خوف حضرت قائم ٴ کے قيام کے بعدہوگا۔
حضرت امام محمدباقر ٴ اسي بارے ميںمزيد فرماتے ہيں
’’
حضرت قائم ٴ جب ظاہرہوں گے توہرگھرميں بہت ہي زيادہ خوف وہراس ہوگا، لوگ زلزلوں سے دوچارہوں گے، طاعون(کينسر)کي وبائ عام ہوگي، عرب کے درميان سخت ترين جنگ وجدال ہوگا،لوگوں ميں شديداختلافات ہوں گے، فرقہ واريت ہوگي ، دين ميں رخنہ ہوگا،دہشت گردي ہوگي ،اسلامي دنيا کے حالات دگرگوں ہوں گے ، لوگ صبح شام موت کے انتظارميں ہوں گے‘‘۔
آپ ٴ کاخروج سخت نااميدي اورمايوسي کے بعد ہوگا پس ان کے ناصران کے لئے خوشخبري ہے اور ان کے مخالفين کے لئے مکمل تباہي وبربادي ہے ۔
(
بحارالانوارج٥٢ص٢٣١الزام الناصب ج٢ص١٦٢،المہدي ٴ ص١٩٧)
جناب ابوبصير۱ نے حضرت امام جعفرصادق(عليہ السلام) سے بيان کياہے کہ آپ ٴ نے فرماياکہ ’’حضرت قائم ٴکے قيام سے پہلے ايک ايسافتنہ ہوگاجس ميں لوگ بھوکے مريں گے اور قتل و غارت گري سے سخت خوف ميں مبتلاہوں گے ۔
اموال کم ہوجائيں گے،جانيں چلي جائيں گي،محصولات ضائع ہوں گے پھر آپ نے سورئہ بقرہ کي آيت ١٥٥کي تلاوت فرمائي ’’لنبلونکم بشئي من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشراالصابرين‘‘اورہم تمہيں ضرور آزمائيں گے کچھ توخوف سے ،کچھ بھوک سے کچھ اموال ميں کمي سے اور تم صبرکرنے والوں کوبشارت دے دو‘‘ ۔(الغيبۃ نعماني ص١٦٨،بحارالانوارج٥٢ص٢٢٩)
بيان شدہ نشانيوں کانتيجہ
ٰ يہ روايات جو ہم نے نمونہ کے طورپربيان کي ہيں جن سے واضح ہوتاہے کہ حضرت قائم ٴ کے ظہورسے پہلے لوگوں کے اندرخوف وہراس ہوگا،بھوک ہوگي ،قحط سالي ہو گي معاشي بدحالي ہوگي،زمين لرزے گي ،زلزلے ہوں گے، بے تحاشابارشيں ہوں گي ،فتنہ و فسادہوں گے،اموال ميں کمي ہوگي،جانيں ضائع ہوں گي ،قتل ،جنگ وجدال ہو گا ، آفات وبلّيات ہوں گي،کھيت ضائع ہوں گے،سيلاب ہوں گے،بے وقت بارشيں ہوں گي،بے وقت آسماني اورزميني آفات ہوں گي،مکڑيوں کافصلوں پروقت بے وقت حملہ ہو گا ، ان سب پريشانيوں ميں، مصائب ومشکلات ہيں ، صبرکرنے والوں کے واسطے خوش خبري ہے اس دورکے بارے ميں ايک بات جوکہي جاسکتي ہے کہ حضرت ٴ کے ظہورسے پہلے کے سالوں ميں اوربالخصوص اس سال ميں جس ميں آپ ٴ ظہورفرمائيں گے پوراعالم جنگ وجدال ،فتنہ و فسادسے کھول رہاہوگا،امن نہ ہوگا،معاشي بدحالي ہوگي ہرطرف بے چيني اورپريشاني ہو گي ، فرقہ واريت ہوگي،دہشت گردي ہوگي،ہرشخص موت کي تمناکرے گا، بيمارياں ہوں گي، مايوسي ہي مايوسي ہوگي،خوف وہراس ہوگا،قحط ہوگا،خيانت ہوگي،بے راہروي ہوگي،امين خائن ہوگا،سچ کوجھوٹ اورجھوٹ کوسچ کہاجائے گا،ہرطرف ظلم کي داستانيں ہوں گي،دنيا کے ہر خطہ اور ملک ميں رہنے والے لوگ اپنے حکمرانوں سے سخت مايوس ہونگے ،رائج نظاموں سے کسي قسم کے امن بحال ہونے کي توقع بالکل نہ رہے گي ان حالات ميں عدالت الٰہي کے تخت پرجلوہ افروزہونے کے لئے حضرت امام مہدي ٴ کاظہورپرنورہوگاجن کي آمدسے ظلم کي طويل تاريک رات کاخاتمہ ہو گا اورصبح نورطلوع ہوگي ،انسانيت کواپنااصلي راستہ ملے گااورہرشخص خوشحالي کي منزل کوپا لے گا

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH