gototopgototop
We have 44 guests online

پاکستان

لیبیا میں فوجی آپشن کا استعمال، امریکی غلطی کی تکرار PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
Written by shiacenter   

امریکہ نے کہ جو دو ہزار گیارہ میں لیبیا میں ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے پیش پیش تھا، اب اس بات کا دعوی کیا ہے کہ یہ ملک دہشت گردوں کے لیے امن کی بہشت میں تبدیل ہو گيا ہے۔

امریکہ کے نائب وزیر دفاع ڈیرک چولٹ نے امریکی کانگرس کے ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دو ہزار گیارہ میں قذافی کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث پوری دنیا سے انتہا پسند اور دہشت گرد لیبیا گئے ہیں۔ ڈکٹیٹر قذافی کی حکومت کے خلاف احتجاج فروری دو ہزار گیارہ میں شروع ہوا اور قذافی کی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کی وجہ سے لیبیا میں خانہ جنگی شروع ہو گئي۔

اس خانہ جنگی کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے قذافی کے مخالفین کی مدد کی اور آخرکار قذافی اپنے مخالفین کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

قذافی کی حکومت اگرچہ ایک ڈکٹیٹرحکومت تھی اور اس پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام تھا اس کے باوجود اس کی حکومت کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طاقت کے خلا نے شمالی افریقہ میں اسلحے کی اسمگلنگ اور مسلح گروہوں کے مضبوط ہونے میں مدد دی۔

لیبیا میں دہشت گرد گروہوں کا مضبوط ہونا حالیہ برسوں کے دوران امریکہ کی سب سے بڑی انٹیلی جنس شکست تھی جس کے نتیجے میں ستمبر دو ہزار بارہ میں بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں اس کے سفیر سمیت چار سفارت کار ہلاک ہو گئے۔

البتہ لیبیا پہلا ملک نہیں ہے کہ جو مغرب کی فوجی مداخلت کی وجہ سے تشدد اور لڑائی کے بھنور میں پھنسا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکہ نے گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے اپنے ملک کی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور افغانستان پر چڑھائی کی۔ دو ہزار تین عراق بھی امریکی جارحیت کا نشانہ بن گیا۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق کی جنگ کی آگ میں اپنے ٹیکس دہندگان کی ایک کھرب ڈالر سے زائد کی رقم جھونک دی اور ہزاروں امریکی فوجیوں اور لاکھوں عام شہریوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ اتنے بھاری جانی و مالی نقصانات اور اخراجات کرنے کے باوجود ان ملکوں میں امن قائم نہیں ہو سکا۔

بلاشبہ لیبیا میں قذافی، افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام کی حکومتیں ڈکٹیٹر اور دہشت گردی کی حامی حکومتیں تھیں لیکن فوجی آپشن کے استعمال سے ان کے خاتمے کے بعد ان ملکوں میں ایک نیا نظام تشکیل نہیں پا سکا۔ اس کے بجائے ان ملکوں میں انارکی ایک نئی شکل میں ظاہر ہوئی اور نئی تشکیل شدہ حکومتوں کو دہشت گرد گروہوں کے تشدد اور وحشیانہ جھڑپوں سے دوچار کر دیا۔

صرف لیبیا ہی دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ بہشت میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بہانے افغانستان پر امریکی جارحیت کو تیرہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد نہ صرف اس ملک میں تشدد اور جھڑپوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے بلکہ امریکہ نے طالبان کی قید سے اپنے فوجیوں کو چھڑانے کے لیے اس گروہ کے ساتھ مذاکرات بھی کیے ہیں اور اس کے دہشت گردوں کو اپنی جیلوں سے آزاد بھی کیا ہے۔

عراق میں دہشت گرد گروہ داعش اور سابق بعث پارٹی سے وابستہ دہشت گردوں کی پیش قدمی نے وسیع پیمانے پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی حکمران اپنی گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنی فوجی موجودگی کو جاری رکھنے کے لیے بہانے کے طور پر تشدد کے جاری رہنے سے فائدہ اٹھانے یا ایک بار پھر فوجی آپشن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH