gototopgototop
We have 37 guests online

پاکستان

دہشتگردی کے حامیوں کو بھی دہشتگردوں سے خطرہ PDF Print E-mail
User Rating: / 0
PoorBest 
Written by shiacenter   

مشرق وسطی ميں دہشتگردوں کا بڑھتا ہوا دائرہ ، خلیج فارس کے ممالک کے لئے باعث تشویش بن گیا ہے۔

جو دہشتگرد کسی زمانے میں شام میں بھیجےگئے تھے آج نئے علاقوں میں نفوذ کرجانے کےباعث علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔

اس تناظر میں سعودی بادشاہ ملک عبداللہ نے ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے ایک پیغام میں خبردار کیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو اپنے ملک کو نقصان نہيں پہنچانے دیں گے۔

ملک عبداللہ نے ایک پیغام میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ اسلام، اتحاد اور بھائي چارے کا دین ہے لیکن بعض لوگوں نے دین اسلام سے دوری اختیار کرلی ہے اور بدخواہوں کے دھوکے میں آگئے ہیں۔

کویتی حکام نے بھی ابھی حال میں شام اور عراق میں داعش گروہ کے خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس دہشتگرد گروہ کے ممکنہ نفوذ کو روکنے کے لئے خصوصی تدابیراختیار کی ہیں۔

اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت دوسرے ممالک نے بھی علاقے میں داعش گروہ کے بڑھتے ہوئے اقدامات پرتشویش ظاہرکی ہے۔

علاقے میں داعش کے خطرے کےبارے میں تشویش کے باوجود ، سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یہ تشویش واقعی دہشتگردی کے خطرے کےباعث ہے یا یہ کہ سعودی عرب جیسے ممالک خود کو دہشتگردی کےخلاف جنگ کرنے والے ممالک میں شامل کرناچاہتے ہیں؟

علاقے میں دہشتگردی بڑھنے پرخلیج فارس کے ممالک کی آج سامنے آنے والی تشویش کی اسی وقت پیشگوئی کی جاسکتی تھی جب عربی مغربی محاذ نے دہشتگردی کے سہارے شام میں استقامت کامحورحذف کرنے کے پروجیکٹ پر عمل درآمد شروع کیا تھا۔

جن ممالک نے مارچ دوہزارگیارہ میں شام میں دہشتگردی کا بیج بویاتھا اس وقت اس کے نتائج پر تشویش میں مبتلاء ہیں۔

وہ دہشتگرد جنھوں نےشام میں مختلف عناوین سے کاروائیاں شروع کی تھیں آج عراق میں ہنگامہ مچائے ہوئے ہيں اور ان کی سرگرمیاں سعودی عرب کی سرحدوں تک پہنچ گئی ہيں۔

یورپ سمیت مختلف ممالک کے زرخرید دہشتگرد جو ابتداء میں صرف شام میں دہشتگردانہ کاروائياں انجام دے رہے تھے آج اپنےآقاؤں کے فرمان کوکوئی اہمیت دیئے بغیر ہرطرح کے جرائم انجام دے رہے ہیں۔

اگرچہ داعش دہشتگردگروہ نے امریکہ ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی مدد سے موصل اور شمالی عراق پر بعثی ایجنٹوں کے تعاون سے قبضہ کرلیا ہے لیکن ان کااسلامی حکومت تشکیل دینے کا وہم ، عالم اسلام کےلئے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

دہشتگردی کے سلسلے میں علاقے بالخصوص بعض عرب ممالک کی دہری پالیسی، عالم اسلام کو درپیش خطرات کو دور نہيں کرسکتی۔

یہ نہيں ہوسکتا کہ سعودی عرب جیسے ممالک کی جانب سے دہشتگردی کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال بھی کیاجائے اور اس کے خطرے پر تشویش بھی ظاہر کی جائے اور اس طرح اسے سعودی قوم اور دوسری مسلمان قوموں کا ہمدرد ثابت نہيں کیا جاسکتا۔

یہ سب پر عیاں ہے کہ شام و عراق میں دہشتگردی کی حمایت میں سعودی عرب کی پالیسیوں نے عالم اسلام کو تکفیریوں اور داعش کے خطرے سے روبرو کردیا ہے۔

داعش اور تکفیریوں کا خطرہ عالم اسلام کے دشمنوں کا حربہ ہے تاکہ اس حربے سے مسلم ممالک کو کمزور اور تقسیم کیا جاسکے۔شمالی عراق میں بعثیوں اور داعش کے اقدامات کا اسی تناظر میں جائزہ لیاجاسکتا ہے۔

عراق میں بعثیوں اور داعش دہشتگردگروہوں کے اقدامات کے حامی اپنے مذموم مقاصد کوآگے بڑھانے کے لئے اس ملک میں شیعہ و سنی کی جنگ کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں لیکن رہبرانقلاب اسلامی کے بقول، یہ جنگ، دہشتگردی کے مخالفین اور ان کے حامیوں کے درمیان جنگ ہے، مغرب بالخصوص امریکہ کے مقاصد کے پیروؤں اور قوموں کی خود مختاری کے حامیوں کے درمیان جنگ ہے یہ انسانیت اور بربریت کےدرمیان جنگ ہے۔

شام اور عراق کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ عالم اسلام کے دشمن اپنے مقاصد تک پہنچنے کےلئے عراق اورشام کا ڈرامہ دوسرے ملکوں میں بھی شروع کرناچاہتے ہیں۔ اس صورت حال میں اس بات کی کوئی ضمانت نہيں کہ دہشتگردی کے موجودہ حامی ہی کہیں اس کا نشانہ نہ بن جائيں اور ھوا کے بجائے طوفان کا شکار نہ ہوجائيں۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH