gototopgototop
We have 13 guests online

پاکستان

ن لیگ میں 3 دھڑے ایک دوسرے کیخلاف سرگرم، نثار گروپ زیادہ مضبوط
Written by alvi   
Friday, 04 July 2014 21:14

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر3 غیر اعلانیہ طاقتور دھڑے بن چکے ہیں اور تینوں دھڑوں کے قدآور رہنما پارٹی کے اندر جوڑتوڑ کر کے مخالف گروپ کو اہم وزارتوں سے ہٹانے یا ان کا اثر رسوخ کم کرنے کیلیے سرگرم ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک دھڑے کی قیادت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی، دوسرے کی سربراہی وزیر دفاع خواجہ آصف جب کہ تیسرے گروپ کی قیادت وزیر خزانہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، پارٹی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ان میں سے چوہدری نثار علی کا دھڑا سب سے مضبوط اور طاقتور ہے کیونکہ یہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے قریب ترین ہے، دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف کا گروپ ہے، جس میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شامل ہیں، ان کو وزیراعظم نواز شریف ونگ کا دھڑا قرار دیا جاتا ہے۔

اسحاق ڈار گروپ کو دونوں شریف برادران کی حمایت حاصل ہے اور اس میں وزیر مملکت انوشہ عبدالرحمان اور وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف شامل ہیں، اگرچہ چوہدری نثار اور خواجہ آصف پارٹی قیادت کے سامنے کسی معاملے پر ڈٹ کر ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن یہ دونوں اسحاق ڈار کی مخالفت میں متحد ہیں کیونکہ ان کے نزدیک وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو جو اضافی اختیارات دیے ہیں، وہ ان کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔

ان معاملات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ خواجہ آصف گروپ کوشش کر رہا ہے کہ چوہدری نثار کو ناکام وزیر داخلہ کے طور پر پیش کرے، اسی طرح چوہدری نثار، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کو وزیر دفاع دیکھنا چاہتے ہیں، خواجہ آصف اور نثار دونوں گروپ چاہتے ہیں کہ اسحاق ڈار کو صرف وزارت خزانہ کے معاملات تک محدود رکھا جائے، حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ان گروپوں میں مصالحت کی کوئی کوشش نہیں کی اور ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں، مثال کے طور پر مارچ میں وزیراعظم نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کیس بنانے کیلیے خواجہ آصف کی بات مانی اور چوہدری نثار کا مشورہ مسترد کردیا۔

پرویز مشرف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد چوہدری نثار نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے اور پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا جائے، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مشورہ مسترد کردیا اور کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی تجویز پارٹی کی اکثریت کے نکتہ نظر کے برعکس ہے اور آپ پارٹی کا فیصلہ قبول کریں، بعد ازاں مئی میں چوہدری نثار کو اس وقت مزید لاتعلق کردیا گیا، جب وزیراعظم نے بجٹ کی تیاری کیلیے اسحاق ڈار کے زیراہتمام اجلاسوں میں وزیر داخلہ کو نہ بلایا۔

نواز شریف نے اسحاق ڈار کی ہر بجٹ تجویز کی حمایت کی، جس سے وزیر داخلہ کا غصہ بڑھ گیا، خواجہ آصف اور اسحاق ڈار کو ملنے والی مسلسل اہمیت سے غضبناک ہوکر چوہدری نثار نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنی آرا ماننے کیلیے دبائو ڈالنے کے نکتہ نظر سے لابنگ شروع کردی، 23 جون کو شہباز شریف نے چوہدری نثار کو دوبارہ اس وقت ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا، جب انھوں نے طاہر القادری کی وطن واپسی پر ایئرپورٹ پر پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کیلیے وزیر داخلہ کو ٹاسک سونپ دیا، یہ اقدام پارٹی کیلیے ایک اشارہ تھا کہ وہ چوہدری نثار کو اپنا اہم ترین کھلاڑی سمجھتے ہیں، حال ہی میں4 روز تک وزیر داخلہ نے لاہور میں جی اوآر ون میں وزیراعلیٰ کی انیکسی میں قیام رکھا۔

منگل کو وزیر داخلہ نے لاہور میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کر کے تحریک انصاف کے 14مارچ کے لانگ مارچ سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا، بدھ کو پارٹی میں اپنی بڑھتی اہمیت کا مظاہرہ کرنے کیلیے اسلام آباد کے پنجاب ہائوس میں مسلم لیگ(ن) کے درجن بھر ارکان قومی اسمبلی نے ملاقات کی اور انجیوگرافی کے بعد ان کی عیادت کی، پارٹی کے اندر 3 دھڑوں کی اطلاعات کے بارے میں رابطہ کرنے پر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کے پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات رانا ارشد نے کہا کہ اختلافات ہر جگہ پائے جاتے ہیں، لیکن ہماری پارٹی مجموعی طور پر تمام ایشوز پر متحد ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی یہی بات کی اور کہا کہ مختلف ایشوز پر ہر پارٹی میں اختلاف ہوتا ہے، لیکن ہمیشہ اکثریت کی بالادستی ہوتی ہے۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH