gototopgototop
We have 45 guests online

پاکستان

شہداء کے قصاص میں پہلی پھانسی نواز، دوسری شہباز اور پھر رانا ثناءاللہ کو دی جائیگی، طاہرالقادری
Written by alvi   
Friday, 04 July 2014 21:17

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج سیکرٹریٹ میں پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری، مسلم لیگ قاف کے چوہدری پرویز الٰہی، مجلس وحدت مسلمین کے علامہ ناصر عباس اور سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اللہ اور عوام کی طاقت سے آئینی اور جمہوری انقلاب چند ہفتوں میں آنے والا ہے، چند روز میں انقلاب کی تاریخ اور طریقہ کار کا اعلان کرونگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکار رائے ونڈ کی بجائے ریاست، آئین اور قانون کے وفادار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان بل سے سیاسی مخالفین سے انتقام لیا جائے گا۔ دھاندلی زدہ حکومت آئینی، اخلاقی، جمہوری اور شرعی طور پر حق حکمرانی کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن شہباز شریف کی فرعونیت اور تکبر کی بڑی مثال ہے، شہداء کے قصاص میں پہلی پھانسی نواز، دوسری شہباز اور پھر رانا ثناء اللہ کو دی جائے گی۔ پاکستان کے چار ہزار خاندانوں نے 18 کروڑ عوام کو غلام بنا رکھا ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے افسران اور اہلکار سن لیں، آئینی اور جمہوری انقلاب چند ہفتوں میں آنے والا ہے، جس میں آئین پاکستان کی پہلی 40 شقوں کے نفاذ سے عوام کو بنیادی حقوق دیئے جائیں گے اور بے رحم احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد انتظامی امور سنبھالنے کیلئے صوبائی، ڈویژن، ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک عوامی انقلابی کونسلیں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سول سروسز گروپس کے افسران اور اہلکاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹ حکمرانوں کے غیر قانونی اور ناجائز احکامات ماننے سے انکار کر دیں کیونکہ انکو تنخواہیں ریاست پاکستان سے دی جاتی ہیں نہ کہ رائے ونڈ سے۔ اس لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین ریاست، آئین اور قانون کے وفادار بنیں اور کرپٹ، عوام اور آئین دشمن بدمست حکمرانوں کی تابعداری چھوڑ دیں۔

علامہ طاہر القادری نے مزید کہا کہ چند ہفتوں کی بات ہے نواز اور شہباز شریف کو اس دھرتی میں سر چھپانے کیلئے جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے تحفظ پاکستان بل کو، سیاسی دہشت گردی کے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت سیاسی مخالفین سے انتقام لیا جائے گا۔ تھانہ شاہدرہ سے عوامی تحریک کے کارکن خاندان جنکا ایک بیٹا سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شدید زخمی ہوا تھا، انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چند روز قبل رات ایک بجے پولیس نے ان کے گھر میں سیڑھی کی مدد سے داخل ہو کر مرد و خواتین پر دہشت گردی کا مقدمہ بنانے پر ہراساں کرتے ہوئے تھانے لے گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ پولیس اپنا رویہ بدل لے، ورنہ بہت جلد انقلاب کے بعد کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ عوام انکو بھی نشان عبرت بناتے ہوئے سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور انکی جگہ لاکھوں پڑھے لکھے افراد تھانوں کا کنٹرول سنبھال لیں گے، جس سے بے روزگاری کا خاتمہ بھی ہوگا۔

چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے پرامن کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلا کر حکمرانوں نے خون کی ہولی کھیلی، جو انکی فرعونیت اور تکبر کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے دس نکات پر اتفاق کرتے ہوئے انقلاب کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ضرب عضب کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں افواج پاکستان دہشت گردوں اور دوسرے حصے میں عوامی انقلاب کے ذریعے دہشت گردوں کے سیاسی ونگ حکمران ٹولے کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب رانا ثناءاللہ سے استعفٰی لیا گیا ہے تو دوسری جانب ڈی جی پی آر کے ذریعے فیصل آباد میں ایک سرکاری ہسپتال کے افتتاح کیلئے رانا ثناءاللہ کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا قصاص لیا جائے گا، جس کے تحت پہلی پھانسی نواز شریف، دوسری شہباز شریف اور پھر رانا ثناءاللہ کو تخت دار پر لٹکایا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں سب سے کم عمر 19 سالہ رکن پارلیمنٹ میاں ساجد نے پاکستان عوامی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چار ہزار خاندانوں نے 18 کروڑ عوام کے حقوق پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے انہیں عوامی تحریک کے مرکزی نائب صدر کی ذمہ داری دی ہے۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH