gototopgototop
We have 50 guests online

پاکستان

عراق کے صوبہ دیالہ کے 90 فیصد حصے پر آرمی کا کنٹرول، 330 سے زائد تکفیری دہشتگرد ہلاک،رپورٹ PDF Print E-mail
Written by shiacenter   
Tuesday, 08 July 2014 13:12

عراق کے صوبوں صلاح الدین، الانبار، نینوا اور دیالہ میں آرمی، سکیورٹی فورسز اور عوامی فورس کی جانب سے تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف شروع کیا گیا گرینڈ آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ 6 جولائی کو عراق کے مختلف ذرائع سے موصولہ رپورٹس کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں انجام پانے والی فوجی کارروائیوں کے دوران 330 سے زائد تکفیری دہشت گرد ہلاک جبکہ 100 سے زائد دہشت گردوں کی جنگی گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ یاد رہے ان صوبوں میں جاری گرینڈ آپریشن میں اڑھائی لاکھ آرمی کے جوان اور عوامی فورس کے رضاکار شامل ہیں۔ ایک باخبر سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صوبہ صلاح الدین میں جاری آپریشن کی وجہ سے تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" سے وابستہ دہشت گرد اس صوبے سے نکل کر شمالی اور مغربی علاقوں کی جانب فرار ہو رہے ہیں۔ تکفیری دہشت گرد عناصر نے عقب نشینی کے دوران راستوں اور گھروں میں مائنز بچھا دی ہیں۔
عراق سے شام کے سرکاری ٹی وی چینل کی رپورٹر نادیہ عبیدی کے بھیجے گئے مراسلے کے مطابق مذکورہ بالا صوبوں میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف جاری آپریشن میں عراق ایئرفورس کے جنگی طیارے، جنگی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ عراق ایئرفورس نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تکریت، شروین منصوریہ، قائم، بیجی، البو جواری اور صقلاویہ میں داعش، نقشبندیہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے وابستہ عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو شدید ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں 264 تکفیری دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جن میں ان کے کئی اعلٰی سطحی کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کمانڈرز میں منصوریہ شہر میں داعش کا کمانڈر "ابو ناصر"، بیجی میں داعش کا فوجی کمانڈر "ابو حذیفہ تونسی" اور داعش کے سنائپر دستے کا کمانڈر "ابو نصر مغربی" شامل ہیں۔ اسی طرح ان حملوں میں داعش کے 60 خفیہ ٹھکانے اور ان کی 83 جنگی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح صوبہ دیالہ میں عراق آرمی اور سکیورٹی فورسز نے "شوہان" کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے بعد صوبہ دیالہ کا 90 فیصد حصہ تکفیری دہشت گرد عناصر سے چھڑوا لیا گیا ہے اور عراقی سکیورٹی فورسز اور عوامی فورس کا اگلا ہدف السعدیہ کا علاقہ ہے۔ اس کارروائی میں 70 تکفیری دہشت گرد ہلاک جبکہ ان کی 17 فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔
اسی طرح عراق کے شہر بیجی میں تکفیری دہشت گرد عناصر نے ملک کی تیسری بڑی آئل ریفائنری پر قبضہ کرنے کیلئے بڑا حملہ انجام دیا لیکن پہلے سے گھات لگائے عراق آرمی اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی زد میں آگئے۔ شدید لڑائی کے بعد تکفیری دہشت گرد پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس لڑائی میں 90 تکفیری دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ بڑی تعداد میں ان کی فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ دوسری طرف صوبہ الانبار کے شہر الرمادی میں داعش کا امیر بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا۔ باخبر فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ الرمادی میں داعش کا امیر "سعد ادھم النعیمی" اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ عراق آرمی کی ایک فوجی کارروائی کے دوران مارا گیا ہے۔ اسی طرح المشاہدہ میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا امیر "حسین فراس المشھدانی" جو ابو ھمام کے نام سے مشہور تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بغداد کے شمالی حصے میں عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگیا ہے۔
عراق پارلیمنٹ کے رکن حسن خلاصی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ انشاءاللہ اگلے چند دنوں میں صوبہ صلاح الدین، صوبہ دیالہ اور صوبہ بابل کے تمام علاقے تکفیری دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے چھڑوا لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیری دہشت گرد شام اور عراق میں مسلسل قتل و غارت اور دہشت گردانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارا اور شام کا مسئلہ مشترکہ ہے اور انشاءاللہ ہماری کامیابی بھی مشترکہ ہی ہوگی اور دونوں قوموں کے دشمن نیست و نابود ہوجائیں گے۔
دوسری جانب صوبہ دیالہ سے ایک باخبر سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ السعدیہ کے علاقے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا فوجی کمانڈر ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگیا ہے۔ باخبر سکیورٹی ذریعے نے السومریہ نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بم عراق آرمی کی جانب سے داعش کے کمانڈر کی گاڑی کے راستے میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ دھماکہ بعقوبہ شہر سے شمال مشرق کی جانب 60 کلومیٹر کے فاصلے پر السعدیہ کے علاقے میں ہوا۔ باخبر ذریعے نے کہا کہ ہلاک ہونے والا داعش کا فوجی کمانڈر بعقوبہ شہر میں کئی دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث تھا۔ اسی طرح المصدر نیوز کے مطابق عراق کے شہر فلوجہ میں ایک اعلٰی سطحی دہشت گرد کمانڈر "علی العیساوی" عراقی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد کمانڈر جس کی عمر 49 سال بتائی جاتی ہے، دہشت گردوں کی ایک اسلحہ بنانے والی فیکٹری میں انجینئر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
الاتجاہ نیوز ویب سائٹ کے مطابق عراق کی وزارت داخلہ نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورسز نے نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے دو کمانڈرز کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ دہشت گرد کمانڈر اربیل سے نجف آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں داعش کے اعلٰی سطحی کمانڈرز ہیں۔ داعش کے گرفتار ہونے والے یہ کمانڈرز صوبہ نینوا میں واقع بادوش جیل میں قید تھے البتہ ایک ماہ قبل موصل پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے کے بعد اس جیل میں قید القاعدہ سے وابستہ تکفیری دہشت گردوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف سومریہ نیوز کے مطابق وہ شخص جس کی ویڈیو تکفیری دہشت گروہ داعش نے جمعے کو ابوبکر البغدادی کے طور پر جاری کی ہے، درحقیقت اس کا نام "ابوبکر الخاتونی" ہے۔ یاد رہے ابوبکر الخاتونی داعش کی جانب سے موصل کا والی مقرر کیا گیا ہے جبکہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی اس وقت موصل میں موجود نہیں۔
اسی طرح عراق کے انٹی ٹیروریزم سیل کے سربراہ صباح نعمان نے فرات نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عراق آرمی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تکریت شہر میں انجام پانے والی ایک کارروائی کے دوران نقشبندیہ دہشت گرد گروہ کے سربراہ اور سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کے دست راست جنرل عزت الدوری کا سب سے بڑا بیٹا "ابراہیم الدوری" ہلاک ہوگیا ہے۔ یاد رہے عزت الدوری کا چھوٹا بیٹا احمد الدوری بھی چند روز قبل تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ایک اڈے پر عراق آرمی کے حملے میں مارا گیا تھا۔ اسی طرح سومریہ نیوز کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے 2 کمانڈرز کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ تکریت شہر کے جنوبی حصے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ تکفیری کمانڈرز تکریت کے جنوب میں واقع علاقے العوجہ سے نکل کر سامرا کی جانب فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مکیشیفیہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ہتھے چڑھ گئے۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH