gototopgototop
We have 51 guests online

پاکستان

سنی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فضائیہ کی بربریت جاری، 12 افراد شدید زخمی PDF Print E-mail
Written by rizvi   
Tuesday, 08 July 2014 13:20

اسرائیل نے سنی تنظيم حماس کے خلاف " پروٹیکٹیو ایج " کے نام سے فضائی آپریشن کا آغاز کردیا جس کے دوران 12 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اس سے قبل اسرائلی فضائی حملے میں 9 سنی فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔اسرائیل نے جنوبی فلسطین کے علاقے غزہ میں فضائی کارروائی کا آغاز کردیا جس میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوگئے۔ صیہونی جارحیت کے دوران غزہ کے جنوبی علاقے میں متعدد گھروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے دوران 12 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے غزہ میں فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے خلاف ” پروٹیکٹیو ایجکے نام سے فضائی آپریشن شروع کیا گیا ہے تاہم انہوں نے آپریشن کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ ادھر سنی فلسطینیوں پر اسرائیل کی بربریت سے توجہ ہٹانے کے لئے سلفی وہابی دہشت گرد شام اور رعاق میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے  ہیں اگر سلفی وہابی دہشت گرد تنظیمیں صحیح مسلمان ہوتیں تو وہ عراق و شام اور افغانستان و پاکستان کے بجائے فلسطین میں اسلامی حکومت قائم کرکے اسرائیل کا خآتمہ کرتیں لیکن سلفی وہابی دہشت گرد تنظیمں اسرائیل اور امریکہ کی آلہ کار تنظیمیں ہیں مسلمانوں کو ان دہشت گرد تنظیموں سے دور رہنا چاہیے۔

ملنے والی رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے ،اسرائیلی بمباری میں اب تک 9 سنی فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی کے علاقے رفح میں بمباری کی جس کے نتیجے میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے 9  سنی کارکن شہید ہو گئے۔ القسام بریگیڈ نے اپنے ایک بیان میں 7 کارکنوں کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے البریج کیمپ پر بمباری کر کے 2 سنی فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔واضح رہے کہ صیہونی فوج نے 3روز قبل بھی غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی نوجوان کی نماز جنازہ کے موقع پر فائرنگ کر کے 7 افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا جب کہ ایک فلسطینی نوجوان کو اغوا کے بعد زندہ جلا دیا گیا تھا۔ عرب ذرائع کے مطابق فلسطینی سنیوں پر اسرائیلی بمباری پر سعودی عرب کا سکوت معنی خیز ہے سعودی عرب نے کبھی بھی اسرائیل کے وحشیانہ جرائم کی سرکاری طور پر مذمت نہیں کی اور نہ ہی مکہ اور مدینہ کی اہ مسجاجد میں اسرائیل کے بھیانک جرائم کے بارے میں سنیوں کو آگاہ کیا جاتا ہے، ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی حکومت سلفی وہابی نظریات کی طرفدار ہے لہذا اس نے فلسطینی سنیوں کی ہلاکت کبھی مذمت نہیں کی بلکہ اسرائيل کو سعودی عرب کا مکمل تعاون حاصل ہے اگر اسرائیل کو سعودی عرب کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو بیت المقدس آج تک آزاد ہوجاتا۔

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH