gototopgototop
We have 14 guests online

پاکستان

سنہ دس بعد از بعثت – ام المؤمنین خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات حسرت آیات PDF Print E-mail
Written by rizvi   
Tuesday, 08 July 2014 13:55

ماہ مبارک رمضان سنہ 10 بعد از بعثت نبی (ص) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نہایت فداکار و جان نثار اور مہربان زوجہ طاہرہ اور بانوئے اسلام ام المؤمنین خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کا مہینہ ہے. سیدہ خدیجہ (س) 65 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں حجون میں واقع قبرستان ابوطالب (علیہ السلام) میں سپرد خاک کیا. حضرت خدیجہ (س) حضرت ابوطالب (ع) کی وفات کے کچھ ہی دن بعد انتقال کرگئیں چنانچہ اسلام کے ان دو محافظین کی وفات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہایت محزون ہوئے اور سنہ دس بعد از بعثت کو عام الحزن (یعنی حزن و غم کا سال) کا نام دیا. بے شک ابوطالب (ع) اسلام اور نبی اسلام کے لئے عظیم سہارا تھے اور حضرت خدیجہ (س) اسلام کے لئے اپنی پوری ہستی لٹانے کی بدولت اسلام کی بی مثال خاتون اور حضرت رسول (ص) کی عظیم زوجہ تھیں اور ان کی دولت خرچ کرکے اسلام کو رونق ملی تھی چنانچہ حق یہی تھا کہ ان دو بزرگوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا جاتا. ان دو بزرگوں کی وفات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ گئے؛ ایک طرف سے آپ (ص) کے مربی اور سرپرست حضرت ابوطالب (ع) دنیا سے اٹھ گئے تھے اور دوسری طرف سے آپ (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) کی والدہ ماجدہ انتقال کرگئی تھیں اور اپنی بے مثال شریک حیات کو کھوگئے تھے. (1) اس کے بعد مشرکین مکہ کی جسارتوں میں اضافہ ہوا اور رسول اللہ (ع) کو وحی ہوئی کہ اب مکہ آپ کے لئے مناسب جگہ نہیں ہیے اور اب آپ کو مکہ چھوڑ دینا چاہئے.

خدا کی قسم اس نے مجھے خدیجہ کا نعم البدل نہیں دیا

عائشہ نے کہا: پيامبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم گھر سے نہیں نکلتے تھے مگر یہ کہ حضرت خدیجہ (س) کو یاد کرلیا کرتے تھے اور ان کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے اور ان کی مدح و ثناء بیان کرتے؛ ایک روز مجھے زنانہ غیرت نے آہی لیا اور میں نے کہا: «وہ ایک بڑھیا کے سوا کچھ بھی نہ تھیں اور خدا نے اس سے بہتر خاتون (یعنی عائشہ) آپ کو عطا کی ہے!». چنانچہ رسول اللہ (ص) غضبناک ہوئے یہاں تک کہ شدت غضب سے آپ (ص) کے ماتھے کے اوپر کے بال ہل رہے تھے اور اسی حالت میں آپ (ص) نے فرمایا: نہیں! خدا کی قسم! ان سے بہتر مجھے خدا نے ان کے عوض کے طور پر عطا نہیں کیا ہے؛ وہ مجھ پر ایمان لائیں جبکہ لوگ کافر تھے اور انہوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگ مجھے جھٹلارہے تھے اور اپنے اموال میرے مقصد کے لئے قربان کردئیے جبکہ لوگوں نے مجھے میرے اپنے اموال سے محروم کیا اور خدا نے مجھے ان سے فرزند عطا کئے جبکہ دوسری زوجات سے مجھے خدا نے اولاد کے حوالے سے محروم رکھا "ان ہی کے بطن سے خدا نے مجھی فاطمہ زہراء – مصداق سورہ کوثر – عطا فرمائی» (2)

مأخذ‏:

1- اسد الغابه، مسار الشيعه، مفيد - نقل از رمضان در تاريخ.

2- اسد الغابه مسار الشيعه مفيد - نقل از رمضان در تاريخ.

 

FORM_HEADER


FORM_CAPTCHA
FORM_CAPTCHA_REFRESH